34

عوامی طاقت کے سامنے پیغمبر بھی بے بس ہے (محمود خان اچکزئی)

محمود خان اچکزئی پشتون وطن کے ایک عظیم حریت پسند صمد خان اچکزئی کی اولاد ہے۔ ایک وقت تک اچکزئی کی پشتون دوستی اور وطن پالی کے گیت گائے جاتے۔ “لہ بولانہ تر چترالہ پشتون یو کہ محمود خانہ” جیسے گیت محمود خان کی تعریف و توصیف میں لکھے اور گائے گئے۔ اپنی اصول پسندی، آئینی جدوجہد اور باوقار سیاست کی وجہ سے محمود خان نے پاکستان میں نام کمایا۔ 2002 کی اسمبلی میں وزیراعظم جمالی کے لئے جب ووٹنگ ہو رہی تھی تو اسکی مخالفت میں مولانا فضل رحمن اور پی پی پی کے شاہ محمود قریشی کھڑے تھے۔ میر ظفراللہ جمالی کو 172 ووٹ درکار تھے اور بمشکل 172 ہی ملے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت ایک ووٹ کی کس قدر اہمیت ہوگی۔ محمود خان جو اپنی پارٹی کے سربراہ کی حیثیت کے مالک اب بھی ہے اور اس وقت بھی تھے۔ اسکے پاس سابق وزیراعظم کئی بار آئے اسکی حمایت مانگی۔یہ سب کچھ کیمرے کے سامنے ہوتا رہا اور کروڑوں عوام اسکا مشاہدہ کر رہی تھی۔ لیکن محمود خان نے اسمبلی میں موجود ہونے کے باوجود، میر ظفراللہ جمالی کی لاکھ منت و سماجت کے باوجود اسے ووٹ دینے سے انکار کیا ۔اسی طرح مولانا فضل رحمان کی طرف سے کوشش ہوئی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ مولویوں نے جتنا ہمیں تھکایا کسی اور نے نہیں تھکایا۔ چنانچہ اسمبلی میں کیمرے کی آنکھ نے دکھا دیا کہ جہاں وزارتوں کے سودے اناً فانااً اور کیمرے کے سامنے ہوئے وہاں ایک پشتون اپنی چادر اوڑھے وزارتوں اور دنیاوی لالچوں سے بے نیاز اپنی پشتون ولی کی اصل رنگ دنیا کو دکھا رہے ۔ محمود خان اچکزئی کے اس ادا نے دنیا کو اسکا گرویدہ بنایا۔ 2002 میں بننے والی اسمبلی نے 2007 میں تحلیل ہونا تھا وہ سال ہنگامہ خیز سال تھا۔ اس آخری سال میں وکلا تحریک شروع ہوئی افتخار محمد چوہدری معزول کئے گئے۔ اور مشرف کا دوبارہ بطور صدر انتخاب تھا۔ مولویوں نے اپنے آقا مشرف کو صدر بنانے میں مدد دی۔ 2 اکتوبر 2007 کو اسمبلی نہ توڑنے کی صورت میں۔ اور محمود خان وکلاء تحریک اور اے پی ڈی ایم کا حصہ بنے۔ وہ اے پی ڈی ایم جسے نواز شریف ماما نے سٹارٹ کیا لیکن بعد میں خود ہی اس سے نکل گئے اور تحریک عمران خان، قاضی صاحب مرحوم اور اچکزئی کے ہاتھوں میں رہ گئی۔ تینوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ نواز شریف نے بھی کیا لیکن بعد میں نہ صرف بائیکاٹ سے مکر گئے بلکہ اے پی ڈی ایم بھی چھوڑ دی۔ ان حالات نے اچکزئی کو نہ صرف پشتون بیلٹ میں بلکہ قومی لیول پر ایک لیڈر و محترم اصول پرست رہنما کی صورت میں سامنے لایا۔ 2013 کے الیکشن میں اس ہر دلعزیزی کا نتیجہ مثبت نکلا اور محمود خان کی پارٹی نے جنرل سیٹوں میں سب سے زیادہ سیٹیں بلوچستان سے حاصل کیں اگرچہ آزاد ممبران ن لیگ میں جانے سے ن لیگ کی اکثریت ہو گئی۔ نواز شریف نے وزیر اعلی کا پوسٹ نیشنل پارٹی کو دیا اور اچکزئی کو گورنری دی۔ اقتدار، کرسی اور پیسے کا مزہ چھکنے کے بعد اچکزئی کے رویے میں رفتہ رفتہ تبدیلی آتی گئی۔ الیکشن اور وزارتوں کے مزے تلے ڈوبے اچکزئی نے جب ایک سال بعد عمرانی دھرنے دیکھے تو آگ بگولا ہوئے اور نواز شریف کی چاپلوسی میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار ادا کیا۔ دھرنے کی آگ ٹھنڈا ہو چکنے کے بعد جب پشتون بلوچ وطن کو سی پیک کا مسئلہ درپیش ہوا تو پھر بھی آپ نے پنجاب کے ایک وفادار نوکر کا کردار ادا کیا۔ جب اپریل 2016 میں پانامہ ہنگامہ سامنے آیا تو بھی نواز شریف کا ساتھ ایک ذاتی غلام کی طرح دیا۔ اور نواز شریف کو کوئیٹہ بلا کر یہاں تک کہا کہ جو نواز شریف کو نہیں مانتا وہ پختون ہی نہیں۔ اب اس بیان کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ کل ایک اور بیان داغ دیا کہ عوامی طاقت کے سامنے پیغمبر بھی بے بس ہے۔ یہ آخری بیان اسکی بے ضمیری پر آخری نکتہ ہے۔ بس اس سے آگے وہ اگر ننگا بھی ہو جائے تو کوئی اسکا نوٹس نہیں لے گا۔ اچکزئی ماما کو شائد قرآن کی تعلیمات کا ذرہ برابر ادراک نہیں کہ قرآن نے اکثریت کی نفی کی ہے۔ پیغمبر عوامی رائے کا محتاج نہیں ہوتا وہ اللہ کا براہ راست نمائندہ ہوتا ہے اسکے پاس اللہ کی مدد ہوتی ہے۔ قرآن نے قوم ثمود، قوم عاد،قوم لوط ،قوم نوح کی اکثریت کو پیغبروں کی ایک بد دعا سے ڈبویا تھا۔ ان قوموں کے پیغمبروں کے ساتھ کئی درجن لوگ ہوتے باقی لاکھوں پر اللہ کا عذاب آیا یعنی معلوم ہوا کہ اللہ عوام کی اکثریت کو نہیں دلیل والوں اور اللہ کا حکم ماننے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ کوئی ہے جو نالائق اور بے ضمیر اچکزئی کو سمجھا دے کہ مغرب کی گندی جمہوریت کو پیغمبری سے نہ ملانا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں