47

عمران خان کی تیسری شادی اور عام لوگوں کی رائے

عمران خان کی تیسری شادی قرآن و سنت کے بالکل عین مطابق ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادی کے حوالے سے حساس ذہنیت پائی جاتی ہے۔ ہم سب اس حساسیت و جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں۔ عمران خان کی شادی اگر بچوں والی ماں سے ہوئی ہے۔ ایک مطلقہ سے ہوئی ہے۔ تو یہ بہترین اسلامی اقدام ہے۔ اگرچہ ہمارے معاشرے میں اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اللہ و رسولؐ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں۔ اسلامی لحاظ سے عمران خان کی حالیہ شادی ایک زبردست، بہترین اور احسن عمل و اقدام ہے۔

عمران خان کی عمر بھی ایسی نہیں کہ جس پر اعتراض ہو۔ اگر وہ خود سمجھتا ہے کہ وہ شادی کے قابل ہے تو یہ اسکا اسلامی حق ہے۔ ہماری دعا ہے کہ عمران خان کی حالیہ شادی کامیاب ہو۔ اسے نرینہ اولاد بھی ملے جو اسکی جائیداد کے ولی و وارث بنے اور بنی گالہ شاد و آباد رہے۔
عمران خان کی شادی پر اگر سیاسی ناقدین اعراضات اٹھائیں تو بھی جوابات دلیل سے موجود ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس نے ایک شوہر سے طلاق دلوا کر ایک ہنستا بستا گھرانہ اجاڑ دیا تو بھی مثالیں موجود ہیں۔ شہباز شریف نے ایسا کئی بار کیا ہے۔ سابق گورنر مصطفی’ کھر ایسے کاموں کا ماہر تھا۔ سب سے بڑا گناہ قتل کا ہے۔ نواز شریف نے دن دیہاڑے ماڈل ٹاون میں قتل کروائے کتنے خاندان تباہ و برباد ہوئے لیکن آج بھی کتنے لوگ اور سیاسی پارٹیاں نواز کے سامنے دم ہلا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ہو یا جمیعت ڈکلیئرڈ قاتل نواز کے پیچھے دم ہلانے والی جماعت میں سر فہرست ہیں۔ زرداری جسے راجہ داہر کی طرح کی شان و شوکت اور پیسے ملا ہے اس نے کتنوں کو قتل کیا لیکن پھر بھی وہ ایک بڑی پارٹی کا سربراہ ہے اور نام نہاد اسلامی جماعتیں انکے لائف ٹائم پارٹنر ہیں۔ عمران خان کی حالیہ شادی پر اعتراض کرنے والے پہلے آئینے میں دیکھیں۔ اپنا چہرہ ملاحظہ کریں۔ تب اس شادی پر اور مشرقی و اسلامی روایات کی بات کریں۔

عمران کی شادی پر یہ اعتراض ٹھیک ہے جو حقیقت ہے کہ اسکی یہ تیسری شادی ہے جو فیملی بالخصوص بہنوں کے صلاح و مشورے کے بغیر ہو رہی ہے۔ اسلام میں بہنوں کے صلاح و مشورے کی ضرورت نہیں نہ نکاح کے لئے شرط ہے لیکن اس میں برکت ہے اجتماعیت ہے۔ عمران خان پر طرح طرح سے حملے ہیں۔ سیتاوائٹ و ٹیرن کے کیس کا بھی الزام ہے۔ ان حالات میں بہنوں اور سابقہ بیوی اور بیٹوں کی ناراضگی ٹھیک نہیں۔ کیونکہ ریحام کی شادی کے فورا” بعد جمائما نے خان کا لفظ اپنے نام سے ہٹایا تھا۔ اور ٹیرن کو (جس پر مخالفین کا الزام ہے کہ وہ خان کی ناجائز اولاد ہے۔ اگرچہ یہ جھوٹ ہے۔ ہم اسے نہیں مانتے۔ لیکن بہرحال الزام ہے۔) لندن بلایا تھا اسے اپنے دونوں بیٹوں قاسم و سلیمان کے بیچوں بٹھا کر یہ وارننگ دینا تھا کہ عمران کا سیاسی مستقبل جمائما کے ہاتھ میں ہے۔ بعد ازاں ان خبروں کی تصدیق بھی ہو گئی کہ عمران کے بچے جب بنی گالہ آتے ہیں تو ریحام کو بنی گالہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ دوسری بات شنید ہے کہ مانیکا صاحبہ کے بیٹے بھی شادی سے خوش نہیں۔ اسلام میں ماں کو نکاح کے لئے بچوں سے اجازت لینا ضروری نہیں۔ لیکن اس وقت بات سیاست کی ہے۔ الیکشن سر پر ہے۔ ہمارا معاشرہ جیسا کہ مضمون کے شروع میں کہا اسلام شناسی سے زیادہ روایات پسند ہے۔ ان حالات میں اگر جمائما بگڑتی ہے۔ عمران و مانیکا کے بچے بگڑتے ہیں۔ ریحام کی کتاب آتی ہے۔ مخالفین کے منہ کھلتے ہیں تو سیاسی میدان میں ہمارا تحریک انصاف کا کیا حشر ہوگا۔ جو لوگ حالات شناس ہیں، سنجیدہ ہیں اور فہیم ہیں انکو آنے والا نقشہ دکھائی دیتا ہوگا۔ دوراندیش لوگ اگر اس شادی سے خوش نہیں تو اسکے پیچھے یہی راز ہے۔ لہذا ہر ڈھول کی آواز پر بھنگڑے ڈالنے والوں سے یہی کہتا ہوں۔ کہ اللہ نے تم لوگوں کے دماغ پر اگر تالے لگائے ہیں اور عقل و دلیل سے عاری ہو تو جو لوگ حالات شناس ہیں انکی حالیہ شادی پر تشویش کو سنجیدہ لو۔ ہر وقت گالیاں ٹھیک نہیں ہوتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.