96

عمران خان کا دورہ چین اور پروٹوکول کا تنازع

عمران خان کے دورہ چین کے موقع پر ان کے استقبال کے حوالے سے دیئے جانے والے پروٹوکول پر تنازع جاری ہے۔تاہم، سابق سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کا کہنا ہے کہ پروٹوکول تبدیل ہوتے رہتے ہیں ‘کبھی کبھی سینئر عہدیدار بھی استقبال کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق،پاکستان میں بہت سے لوگوں کو شاید یہ بات عجیب لگے کہ وزیر اعظم عمران خان جب چین پہنچے تو ان کا استقبال بیجنگ کی میونسپل کمیٹی کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کیا ۔تاہم وزارت خارجہ کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔دی نیوز نے جب ایک عہدیدار سے رابطہ کیا تو اس کا کہنا تھا کہ استقبال کا معیار ہمیشہ یکساں رہا ہے ۔انہوں نے اس بات کو مسترد کیا کہ وزیر اعظم نے جب گزشتہ برس نومبر میں چین کا دورہ کیا تھا تو اس وقت استقبال مختلف تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم نے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔سرکاری اعلامیے کو اگر دیکھا جائے تو گزشتہ برس نومبر میں وزیر اعظم کا استقبال چین کے وزیر ٹرانسپورٹ نے دیگر عہدیداران کے ساتھ کیا تھا۔ماضی اور موجودہ دورے میں ایک فرق مصروفیات کی نوعیت کا بھی ہے۔ماضی کا دورہ دوطرفہ نوعیت کا تھا، جب کہ اب وہ بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس میں شرکت کے لیے وہاں گئے ہیں ، جس میں 37ممالک کے وفود بھی شرکت کررہے ہیں۔ان میں پاکستان سمیت روس، اٹلی، ازبکستان، کمبوڈیا، بیلا روس اور دیگر ممالک کے سربراہان مملکت بھی شامل ہیں ۔چین کی ایک کمپنی میں سینئر عہدے پر کام کرنے والے ایک پاکستانی نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ اس میں وزیر اعظم کی تضحیک کی کوئی بات نہیں تھی۔چوں کہ یہ ایک بڑی کانفرنس ہے اور بہت سے اہم رہنما اس میں شرکت کررہے ہیں لہٰذا ہر کسی کو بڑا پروٹوکول دینا ممکن نہیں ہے ۔یہاں تک کے مختلف ریاستی کمپنیوں کو دورہ کرنے والے رہنمائوں کا استقبال کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے اسٹاف کی تربیت بھی کی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر چین کے لوگ پروٹوکول کے معاملے میں غیر مہذب نہیں ہیں۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو پہلے سیشن میں خطاب کا موقع فراہم کرنا ایک اچھے پروٹوکول کی نشانی ہی ہے۔سابق سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر جو کہ چین میں پاکستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ پروٹوکول تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔کبھی کبھی سینئر عہدیدار بھی استقبال کرتے ہیں۔ان سے جب پوچھا گیا کہ سینئر عہدیدار سے کیا مراد ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس سے مراد نائب وزیر خارجہ یا پھر اسٹیٹ کونسلر۔جب کہ استقبال گریٹ ہال میں کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا پرویز مشرف کے دورے کے موقع پر بھی کیا گیا تھا۔جب کہ نواز شریف نے جب 2013 میں وزیراعظم بننے کے بعد چین کا دورہ کیا تھا تو ان کا استقبال بھی اسی طرح کیا گیا تھا اور چین کے نائب وزیر خارجہ نے ان کا استقبال کیا تھا۔جب کہ 2017میں جب نواز شریف نے ون بیلٹ ون روڈ فورم میں شرکت کی تھی ، اس وقت انہیں بھی اسی طرح کا پروٹوکول دیا گیا تھا جیسا کہ جمعرات کے روز عمران خان کو دیا گیا اور بیجنگ میونسپل کمیٹی کے وائس چیئرمین نے ان کا استقبال کیا تھا۔چین میں پاکستان کے سفارت خانے میں ذمہ داری نبھانے والے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس چین کے صدر شی جن پنگ نے جب 2015میں پاکستان کا دورہ کیا تھا تو ایئرپورٹ پر اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ان کا استقبا ل کیا تھا ۔جب کہ 2013میں جب چین کے وزیر اعظم لی کیکیانگ پاکستان آئے تو ان کا استقبال اس وقت کے صدر آصف زرداری اور نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسونے کیا ۔اس کے برعکس آصف زرداری کا استقبال نائب وزیر خارجہ نے بھی نہیں کیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کسی دعوت نامے کے بغیر اپنی مرضی سے وہاں جاتے تھے ، اپنے دور صدارت کے پہلے سال وہ چار مرتبہ چین گئے تھے۔

– عمر چیمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.