49

عمران خان چین میں: سی پیک منصوبے کا مستقبل کیا ہو گا؟

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ان دنوں چین کے پہلے سرکاری دورے پر ہیں۔ اس سے پہلے وزیراعظم عہدہ سنبھالنے کے بعد سے سعودی عرب کے دو سرکاری دورے کر چکے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے دورۂ چین کے دوران صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی کی چیانگ سے بیجنگ میں ملاقاتیں کی ہیں۔

اس کے علاوہ وہ شنگھائی میں برآمدات کی ایک نمائش میں شرکت کریں گے جبکہ اس دورے کے دوران امکان ہے کہ وزیراعظم ملک میں مالی ادائیگیوں کے بحران سے نکلنے کے لیے چینی امداد کے حصول کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان چین کا دورہ ایک ایسے وقت کر رہے ہیں جب پیچھے ملک میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

سی پیک منصوبے کے تحت چین نے پاکستان میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر رکھا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چین سے لیے گئے قرضوں کے باعث عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے پاس بیل آؤٹ پیکج کے لیے جانا پڑا ہے۔
چین کے روزنامہ گلوبل ٹائمز نے 28 اکتوبر کے اداریے میں لکھا تھا کہ’ چین کے منصوبوں اور نئے اقدامات پر بے جا توجہ اور سوالات کیے جا رہے ہیں کیونکہ کئی لوگ اب بھی چین کے ابھرنے کو تسلیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس کے ایک دن بعد کہا کہ سی پیک کے نتیجے میں آنے والے ثمرات اور ہماری دوستی گہری سے گہری تر ہوتی جا رہی ہے۔

ماضی کی حکومت کا ’ناقص فیصلہ‘

وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے ایک وزیر اور مشیر اس سے پہلے رائے دے چکے ہیں کہ ان کی حکومت ملک میں سی پیک سے متعلق منصوبوں کا ازسر نو جائزہ لے گی۔

سب سے پہلے واضح طور پر یہ عندیہ کامرس، ٹیکسٹائل، انڈسٹری اینڈ سرمایہ کاری کے وزیر رزاق داؤد نے دیا جنھوں نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

انھوں نے اس انٹرویو میں کہا تھا کہ’ پچھلی حکومت نے سی پیک پر چین سے بات چیت میں بری کارکردگی دکھائی۔ انھوں نے اپنا ہوم ورک یا کام ٹھیک طرح سے نہیں کیا اور بات چیت ٹھیک طرح سے نہیں کی۔۔۔ تو انھوں نے بہت کچھ دے دیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’ میرے خیال میں ہمیں ایک سال کے لیے سی پیک پر ہیش رفت کو روک دینا چاہیے۔‘

چینی وزیر خارجہ نے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران اس رائے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ’ سی پیک کے نتیجے میں پاکستان پر قرضوں کا بوجھ نہیں بڑھا ہے۔‘

منصوبے کی شفافیت پر سوالات

اگرچہ سی پیک منصوبے کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ معاشی، ڈھانچے کی ترقی اور روزگار کے اعتبار سے پاکستان کے لیے ’گیم چینجر‘ ہے تاہم ماہرین نے ان منصوبوں پر شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے سوالات اٹھائے ہیں۔

پاکستان کے انگریزی کے اخبار ڈان نے رزاق داؤد کے بیان کے حوالے سے کہا کہ’ کامرس کے مشیر کے بیان کو کاروباری برادری سے پذیرائی ملی ہے جبکہ اس سے بہت پہلے تجارتی اور کاروباری ادارے اسی طرح کے خدشات کا اظہار تقریباً اسی زبان میں کر چکے ہیں۔‘

یہاں تک کہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے منصوبے پر معلومات عام نہ ہونے پر خدشات کا اظہار کیا تھا اور اس کے فوائد کی ملک کے مختلف صوبوں تک غیر منصفانہ تقسیم پر سوالات اٹھائے تھے۔

عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ایک رکن نے اس منصوبے کو ’چین پنجاب اقتصادی راہداری‘ قرار دیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں صوبہ پنجاب اس منصوبے سے زیادہ فوائد حاصل کر رہا ہے اور یہ منصوبے کا غیر متناسب حصہ لے رہا ہے۔

سی پیک میں تیسرے شراکت دار سے مسئلہ؟

سعودی عرب کی سی پیک میں تیسرے شراکت دار کے طور پر ممکنہ شمولیت سے تناؤ کی صورتحال پیدا ہوئی۔

پاکستان نے گذشتہ ماہ 2 اکتوبر کو اعلان کیا کہ سعودی عرب سی پیک فریم ورک کا حصہ نہیں ہو گا اور اس اعلان سے چند دن پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب کے پہلے سرکاری دورے کے بعد کہا گیا تھا کہ سعودی عرب اس منصوبے میں تیسرا ’سٹریٹیجک شراکت دار‘ ہو گا۔

سعودی عرب کو سی پیک منصوبے میں شامل نہ کرنے کے اعلان سے پہلے پاکستانی سینیٹ میں اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب مخصوص منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے اور پاکستان اور چین سے اس ضمن میں علیحدہ سے معاہدے کرے گا۔

دریں اثنا پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قرض لینے کے معاملے پر امریکہ کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مالیاتی خسارے کا سبب سی پیک منصوبوں کی مد میں لیے جانے والا قرضہ ہے جس کی پاکستان کے علاوہ چین نے بھی تردید کی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کے آئی ایم ایف سے قرض لینے کی مخالفت کی کیونکہ اس کے خیال میں اس رقم کو چین کو قرض کی واپسی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آئی ایم ایف نے بھی کہا ہے کہ یہ سی پیک منصوبوں کی چھان بین کرے گا اور یہ کڑی شرائط پر قرض مہیا کرے گا۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر کے بقول پاکستان ایک ایسے وقت پر امریکہ کو ناراض نہیں کر سکتا جب اس کو آئی ایم ایف کے پیکیج کی اشد ضرورت ہے۔ اور مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے اس وقت 12 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے۔

لہذاٰ سی پیک منصوبے کی شرائط پر ازسرنو مذاکرات سے ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج لینے میں مدد مل سکے لیکن پاکستان سعودی عرب سے حال ہی میں چھ ارب ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور اب عمران خان چین سے بھی قرض لینا چاہیں گے تاکہ آئی ایم ایف سے قرض حاصل نہ کرنا پڑے۔

آگے کیا ہو گا؟

وزیراعظم عمران خان نے وعدہ کیا ہے کہ سی پیک کو ملکی مفاد کے لیے استعمال کیا جائے گا جس میں سی پیک کے تحت انسانی ترقی اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا شامل ہے۔

ان نئے منصوبوں کی شمولیت سے ہو سکتا ہے کہ عمران خان اپنے ووٹرز کو خوش کرنے میں کامیاب ہو سکیں جس میں خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا ہے جہاں عوام کا خیال ہے کہ سی پیک سے ان کو فائدہ نہیں پہنچا ہے۔

اس کے ساتھ یہ امکان بھی نہیں ہے کہ پاکستان سی پیک منصوبے پر دوبارہ مذاکرات کرے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس صورت میں پاکستان اور چین کے تعلقات متاثر ہوں گے جس سے ملک کی اقصادی ترقی پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

اس امکان کے برعکس گلوبل ٹائمز نے 28 اکتوبر کے اپنے اداریے میں لکھا کہ ’چین سی پیک کے تحت پاکستان کی ترقی میں اضافے میں مدد جاری رکھے گا تاہم دوسرے ان میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.