51

عدالتی حکم کے باوجود میڈیکل کالج میں ڈیلی ویجز کے ملازم کو بحال نہیں کیا جا سکا

پشاور ہائی کورٹ بنوں بنچ کے فیصلے کے باوجود میڈیکل کالج میں ڈیلی ویجز کے ملازم کو بحال نہیں کیا جا سکا ضیاء الرحمن اور جہان زیب ڈیلی ویجز پر بھرتی ہوئے تھے جو مبینہ طور پر بلا وجہ 2016میں نوکری سے برخاست کیا گیا میڈیا کو اپنی فریاد سناتے ہوئے ضیاء الرحمن ولد رحیم اور جہانزیب ولد عمر خان نے بتایا کہ 7جنوری 2012 اور 16فروری 2011کو ڈیلی میڈ یکل کالج میں ڈیلی ویجز کی بنیاد پر بھرتی ہوئے.
سالہہ سال اچھی کارکردگی پر رکھا گیا لیکن 2016کو بغیر کسی وجہ نوکری سے نکالا گیا ہم نے اس وقت کے پرووسٹ ڈاکٹر حفیظ اللہ سے رابطہ کیا جس کا جواب تھا کہ چیف ایگزیکٹیو کی احکامات کی روشنی میں یہ اقدام اُٹھایا گیا جبکہ ہماری جگہ پشاور اور مردان کے بندے لگائے گئے ہم نے پشاور ہائی کورٹ بنوں بنچ سے رجوع کیا جو ہمارے حق میں فیصلہ ہو ا کہ دونوں کو بھرتی کیا جائے لیکن ایسا نہ کر سکے اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ہر ایک کو انصاف کی فراہمی کا دعویٰ تو کر رہی ہے لیکن عدالتی فیصلے کے باوجو د چیئرمین بورڈ آ ف گورنر ایم ٹی آ ئی بنوں میڈیکل کالج کرنل ریٹائروحید اللہ خان اور ڈین ڈاکٹر محمد اکرم خٹک سے درخواست برائے تعیناتی جمع کی تو جواب ملا کہ خالی پوسٹ نہیں حالانکہ اس دوران دیگر ملازمین کو بھرتی کیا گیا اُنہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی سننے والا نہیں کوئی آ ئے روز چکر دے دیتے ہیں کبھی کس کیپاس اور کبھی کس کیپاس ہمیں لے جا تے ہیں لہذا وزیر اعظم پاکستان ، وزیر صحت ، سیکرٹری ہیلتھ ،چیئرمین بی او جی ایم ٹی آ ئی بنوں میڈیکل کالج ،ڈین میڈیکل کالج بنوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.