26

عام انتخابات کے اعلان سے ہی بنوں میں امیدواران نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں


عام انتخابات کے اعلان سے ہی بنو ں میں قومی و صوبائی اسمبلی امیدواران نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں،ضلع بنوں میں عام انتخابات 2018قریب آتے ہی قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی کے متوقع اُمیدواران نے اپنے سیاسی سر گرمیاں تیز کی ہے گائو ں گائو ں کارنرز میٹنگ ، جلسے اور ڈور ٹو ڈورانتحابی مہم شروع ہو گیا ہے ۔
ضلع بنوں کے این اے 35اور چاروں صوبائی حلقوں جس میں پی کے 88،پی کے 89،پی کے 87،پی کے 90 پر کئی امیدوارن میدان میں کھود چکے ہیں کچھ سیاسی جماعتوں کو ٹکٹوں کی تقسیم میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پی پی پی ، قومی وطن پارٹی ، جمعیت علماء اسلام سمیع الحق گروپ ، جماعت اسلامی ، قومی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی ، ایم کیو ایم ، جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن گروپ ، عوامی نیشنل پارٹی ، وغیرہ کے کئی کئی اُمیدوارن نے اپنے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے میں یہاں پر قومی اسمبلی این اے 35کے متوقع ممبران نے ملک ناصر خان ، پروفیسر ابراہیم خان ، سینئر صحافی محمد عثمان علی خان ، یاسمین صفدر ، نادیہ خان ، مولانا نسیم علی شاہ ، مولانا اسلام نور خان ، ملک اشفاق خان ، ملک شوکت اللہ خان ایڈوکیٹ ممش خیل ، انجینئر حاجی جہانگیر خان وزیر ، ملک عالمگیر خان وزیر وغیرہ نمایاں اُمیدواروں میں شامل ہے پی کے 87سے پاکستان پیپلز پارٹی کے حاجی شیر اعظم وزیر ، ملک فرزند علی ایڈوکیٹ ، پاکستان تحریک انصاف سے ملک زاہد اللہ خان ، ملک افسر اللہ خان ، عوام نیشنل پارٹی سے ملک تیمور باز خان ، جمعیت علماء اسلام سمیع الحق گروپ سے مولانا اسلام نور ، ڈسٹرکٹ ممبر ملک حلیم زادہ خان ، ڈسٹرکٹ ممبر ملک فہیم خان سکندری ،،جمعیت علماء اسلام سے سابقہ ایم پی اے قاری گل اعظیم ، قومی وطن پارٹی سے ملک دلغفور خان وغیرہ شامل ہے،
پی کے 89سے ملک شاہ محمد خان ، ملک عدنان وزیر ، ملک شیرین مالک ، ملک نعیم خان ، سابقہ ایم پی اے سید خامد شاہ ، ڈاکٹر پیر صاحب زمان ، ملک وقار خان مندیو ، چیف آف میریان ملک دلنواز خان ، سابق ناظم ملک سلیم الرحمن ، ملک ڈاکٹر رحم باز خان ، ملک شعیب خان ، ملک ایدریس خان ، ملک سید جعفر شاہ ، پیر آغا منیر شاہ ،ملک میر شمد خان ، ناظم ملک زالی خان وغیرہ شامل ہیں،اس طرح PK-88میں ملک پختون یار خان ، ملک اقبال جدون ، ملک جنید الرشید ،ملک حاجی اختر علی خان ، زاہد دُرانی ، ملک شاہد نواز خان وغیرہ متوقع اُمیدواران بھی شامل ہیں ،اس طرح PK-90میں ملک حمید خان سورانی ، ملک انجینئر اسفندیار خان ، ملک عبد الصمد خان ، سینئر صحافی محمد عثمان علی خان ،،ڈاکٹر عبد الروف قریشی ، پروفیسر ابراہیم خان ،ملک آصف الرحمن ، ملک وحید خان سورانی ، ملک اشفاق خان ، میڈیم نادیہ خان ، میڈیم یاسمین صفدر وغیرہ شامل ہیں ،یہاں پر جمعیت علماء اسلام او ر جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کا اتحاد شروع سے اختلافات کا شکار ہے کیونکہ یہاں پر جماعت اسلامی کے PK-88سے مضبوط ترین اُمیدوار ملک حاجی اختر علی خان جوجڑی کئی ماہ سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سینیٹر سراج الحق نے اُن کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی تھی جبکہ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے ووٹروں کی تعداد وز بروز زیادہ ہوتی جارہی ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کے ایک ایک حلقے سے کئی کئی اُمیدواران میدان میں کھودپڑے ہے اور ٹکٹو ں کیلئے بقاعدہ درخواستیں جمع کی ہے ، جمعیت علماء اسلام علماء کرام کی پارٹی ہے لیکن یہاں پر جتنے اُمیدوارن کھڑے کئے گئے ہیں اُس میں عالم اور حافظ یا قاری کوئی اُمیدوار نہیں ہے دُرانی خاندان نے جمعیت علماء اسلام کو اپنے گھر کی لونڈی بنائی ہے اور انہوںنیNA-35پر PK-90پر الحاج اکرم خان دُرانی جبکہ PK-88پر ملک زاہد دُرانی کو میدان میں چھوڑا ہے جبکہ باقی دو حلقے پر پی کی87اورPK-89پر ٹکٹوں کی تقسیم میں جمعیت علماء اسلام ، جماعت اسلامی ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اس طرح یونین کونسل نورڑ ، یونین کونسل مندیو ، یونین کونسل ممباتی بارکزائی ، ممہ خیل ، لنڈی ڈاک وغیرہ نے تین اُمیدوارن جس میں چیف آف میریان ملک دلنواز خان ،فخر میریان ، ملک وقار خان مندیو ،اور ڈاکٹر صاحب زمان میدان میں موجود ہے اگر تین اُمیدواروںنے متفقہ طور پر اپنا اُمیدوار میدان میں نہیں چھوڑا تو یہ سیٹ جتنا انتہائی مشکل ہے دوسری طرف صوبائی حکومت نے ، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ ملک شاہ محمد خان وزیر نے PK-89کیلئے تین تحصیلیں ، تحصیل بکاخیل ، تحصیل میریان ، سب تحصیل جانی خیل ، کی نوٹیفکیشن کرکے بنوںPK-89کے عوام پر اعظیم احسان کیا ہے جبکہ معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ ملک شاہ محمد خان وزیر نے PK-89کیلئے اربوں روپے کے منصوبے لاکر حلقے کے عوام کی تقدید بدل دی ہے صوبائی حکومت نے بنوں شہر کی بیوٹفکیشن کیلئے ایک ارب روپے ریلیز کرکے بنوں کے لاکھوں عوام پر ایک اعظیم احسان کیا ہے 31مئی 2018کو وفاقی حکومت اور28مئی2018صوبائی حکومت اپنے پانچ سالہ مدت پوری کرینگے اور اب نگران وزیر اعظم اور نگران وزیر اعلیٰ کیلئے ناموں کو اخری شکل دی جارہی ہے میں یہاں پر صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کرونگا کہ صوبائی نگران حکومت میں بنوں سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی نائب صدر ملک حاجی نواب خان ، ضلعی صدر ،تحصیل ممبر ملک پیر کمال شاہ ، نیبر ہوڈ فور کونسل سٹی ٹو بنوں کے ناظم اور درینہ مسلم لیگی رہنماء ناظم حاجی محمد اسماعیل خان کو نگران صوبائی وزراء میں شامل کیا جائے اس کے علاوہ وکلاء برادری نے سینئر وکلاء تاج محمد خان ایڈوکیٹ ، انوار خان ایڈوکیٹ میداد خیل ، وسیم خان ایڈوکیٹ ، ملک عبدالمتین خان بازار احمد خان کو نمائندگی میں شامل کیا جائے۔
عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ نیب منتخب نمائندوں کا سخت سے سخت احتساب کرے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.