46

عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم لیکن پاکستان میں کیوں نہیں؟

پاکستان میں گذشتہ چند ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔

لیبیا کی جانب سے خام تیل کی پیدوار میں اضافے کے اعلان کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں تقریباً سات فیصد کمی آئی ہے۔

موجودہ سال کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے بعد اب اس حالیہ کمی کے بعد برینٹ کروڈ 73 ڈالر 40 سینٹس، اور یو ایس کروڈ 70 ڈالر 38 سینٹس میں فروخت ہو رہا ہے۔

یہ گذشتہ دو برسوں کے دوران ایک دن میں تیل کی قیمت میں ہونے والی سب سے زیادہ کمی ہے۔

گذشتہ ایک برس کے دوران عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافے کے بعد پاکستان میں گذشتہ چند ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے اور پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے سے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اگرچہ امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی گئی پابندیوں کے بعد حالیہ کچھ عرصوں میں تیل کی قیمتوں میں کافی اتار چڑھاؤ آیا ہے۔

بدھ کو لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن نے تیل کی درآمد کے لیے چار برآمدی ٹرمینل دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔

تیل کی قیمتوں میں کمی ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب امریکہ میں تیل کے ذخائر چار فیصد تک کم ہونے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ’اتار چڑھاؤ صحیح نہیں ہے، ہم تیل کی قیمتوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ کے حق میں نہیں ہیں۔’

پاکستان میں پیٹرولیم کی قیمت کم ہو گی؟

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہوئی ہے لیکن کیا بین الاقوامی مارکیٹ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر پاکستان میں ہو گا؟

اس سلسلے میں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ پاکستان عربین سویٹ خام تیل درآمد کرتا ہے جس کی قیمت یو ایس اور برینٹ کروڈ سے کم ہوتی ہے۔ دوسرا ڈالر کی قیمت بڑھنے سے بھی مقامی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو متعین کرنے کے لیے پورے ماہ کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کا اوسط قیمت نکال کر اُس میں نقل و حمل کی لاگت اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تبدیلی کو شامل کر کے قیمت نکالی جاتی ہے۔

اس کے بعد حکومت اپنی ضرورت کے مطابق اُس میں 17 فیصد سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم ڈوپلمنٹ لیوی سمیت دیگر محصولات شامل کیے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں نگران حکومت نے گذشتہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا جبکہ رواں ماہ کے لیے بھی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا تاہم سپریم کورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معاملہ زیر سماعت تھا اور عدالت نے حکومت کو قیمتوں میں نظرثانی کرنے کا کہا تھا۔

اس پر نگران حکومت نے یکم جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا تھا اس کو مکمل طور پر واپس نہیں لیا گیا تاہم قیمتوں میں تقریباً 4 سے ساڑھے چھ روپے کٹوتی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.