26

صوفی درگاہوں میں خواتین کی گائیکی اور رقص کی روایت

ریاض سہیل

شبانہ گل بتاتی ہیں کہ فنکاروں کو پہلے میلوں اور مزاروں پر سنا جاتا تھا لیکن اب وہ رواج نہیں رہا
منچھر جھیل کے کنارے پر ایک زبوں حال مزار کے قریب لوگوں کا مجمع لگا ہے جبکہ ایک خاتون گا رہی ہے اور دو خواتین رقص کر رہی ہیں، ساتھ میں سازندوں نے ہاتھوں میں یکتارا، ہارمونیم اور ڈھول اٹھا رکھے ہیں۔ یہ گروپ ’متھن شاہ‘ کے مزار میں داخل ہوکر سلامی دیتا ہے اور باہر آکر محفل موسیقی کا آغاز کرتا ہے۔

سندھ میں صوفی درگاہوں پر میلوں کے موقعے پر گائیکی اور رقص ایک قدیم روایت رہی ہے، دادو میں بزرگ متھن شاھ سمیت درجنوں مزاروں پر ہر سال میلے لگتے ہیں، جہاں شبانہ گل جیسی مقامی گلوکاروں کے فن کی پرورش ہوتی ہے۔

ان مزاروں پر ایک طرف مقامی گلوکاروں کے ذریعے لوگوں تک صوفی پیغام کی رسائی ہوتی ہے تو دوسری طرف ان گلوکاروں کے معاشی مسائل بھی حل ہوتے ہیں۔

شبانہ گل بتاتی ہیں کہ فنکاروں کو پہلے میلوں اور مزاروں پر سنا جاتا تھا لیکن اب وہ رواج نہیں رہا، جو غریب فنکار ہیں ان کی اب کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن ہم نے گائیکی کا یہ ہی سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور مختلف درگاہوں پر جاتے ہیں جہاں صوفی کلام کے ساتھ سندھی راگ بھی سناتے ہیں۔

یہ صوفی کلام زیادہ تر سندھی، سرائیکی اور پنجانی زبان میں گائے جاتے ہیں، جو لوگوں کی روز مرا کی مشکلات اور امیدوں کے علاوہ جبر اور شدت پسندی کے خلاف ایک پیغام بھی ہوتا ہے۔

سندھ میں صوفی ازم کی روایات، ثقافت اور ادب پر ایک گہری چھاپ رہی ہے، لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ درگاہوں پر خواتین کے گانے اور رقص کی روایات دم توڑنے لگی ہیں بعض حلقے اسے برا سمجھتے ہیں اور نتیجے میں کئی علاقوں میں میلے نہیں ہوتے یا جہاں ہوتے ہیں تو وہاں محفل سماع اور رقص نہیں ہوتا۔

مقامی فنکاروں نے میدان نہیں چھوڑا اور روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں
اس صورتحال میں کچھ نوجوان اس روایت کو بحال رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سماجی تنظیم سجاگ سنسار آرگنائزیشن کے رہنما معشوق برہمانی کا کہنا ہے کہ سندھ کی درگاہوں پر صوفیانہ راگ ختم ہو رہا ہے، یہاں مختلف لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ گانا بجانا ہمارے کلچر میں نہیں ہے یہ ایک قسم کا مائینڈ سیٹ ہے۔

’ہم نے سوچا کیوں نہ وہ لوگ جو پہلے سے گا رہے ہیں اور کچھ نوجوان۔ ان کو ملاکر ایک نئی سوچ پیدا کی جائے تاکہ گائیکی کا یہ سلسلہ شروع ہوسکے ابتدائی طور پر ہم نے سات گروپ بنائے ہیں جن میں دو گروپ خواتین کے بھی ہیں۔‘

ان مقامی کلوکاوں کی گائیکی میں بہتری کے لیے استاد امیر علی خان سے ان کی تربیت کرائی گئی اور ہر گروپ کو موسیقی کے الات بھی فراہم کیے گئے ہیں، جس کے بعد یہ گروپ اب درگاہوں پر جاکر گاتے ہیں۔

سندھ میں صوفی ازم کی روایات، ثقافت اور ادب پر ایک گہری چھاپ رہی ہے
ماضی میں سندھ میں بیگم فقیرانی اور مائی بھاگی جیسی لوک گلوکارائیں اور عابدہ پروین جیسی عالمی سطح پر مشہور صوفی گلوکارہ درگاہوں سے ریڈیو تک پہنچی اور پھر دنیا بھر میں مقبول ہوگئیں، اب صف اول کی صوفی گلوکارائیں شاہ عبدالطیف بھٹائی اور سچل سرمت کے علاوہ دیگر مزارات پر نہیں گاتیں نتیجے میں صوفی گائیکی اب درگاہوں اور میلوں کے بجائے اسٹوڈیوز اور ویڈیو البم تک محدود ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے بظاہر اب ان گلوکارؤں کا عام آدمی سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے۔

ایسی بے قدری کی صورتحال میں بھی مقامی فنکاروں نے میدان نہیں چھوڑا اور روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ نامور محقق حاکم علی شاہ کا کہنا ہے کہ پہلے فنکاروں کے ضرورت ہوتی تھی کہ وہ صوفی کلام گائیں لیکن اب یہ معاشرے کی بھی ضرورت بن گئی ہے کیونکہ مذہبی شدت پسندی کے خلاف یہ ہی ایک ہتیھار بچا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں