17

شیر سے لڑائی: ’میں نے سوچا میری بیٹی مرنے والی ہے‘

انڈیا میں ایک خاتون نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک شیر کا مقابلہ محض ایک چھڑی سے کیا اور انہیں معمولی زخم آئے۔

23 سالہ روپالی مشرام کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ وہ بچ گئیں اور انھیں زیادہ چوٹیں نہیں آئیں۔

مغربی ریاست مہاراشٹر کی رہائشی روپالی مشرام اپنی بکری کی چیخ سن کر گھر سے باہر آئیں۔

یہ بھی پڑھیے
انڈیا میں شیروں کی ہلاکتوں پر ’خاموشی‘ کیوں؟

انڈیا کی آدم خور شیرنی کو مار دیا گیا

انھوں نے چھڑی اٹھائی اور شیر کو مارا جس نے پلٹ کر ان پر حملہ کر دیا۔ ان کی والدہ جو خود بھی زخمی ہوئیں جان بچانے کے لیے روپالی کو کھینچ کر گھر کے اندر لے گئیں۔

دونوں کو معمولی زخم آئے تاہم بکری اس واقعے میں بچ نہیں سکی۔

روپالی نے اس حملے کے فوراً بعد سیلفی لی جس میں ان کے چہرے پر خون دیکھا جا سکتا ہے۔

ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نے ان کی بہادری کی تعریف کی اور کہا کہ خوش قسمتی سے وہ شیر کے کاٹے سے بچ گئیں۔

ان کے سر، کمر، ٹانگوں اور ہاتھوں پر زخم آئے۔ تاہم یہ زیادہ گہرے نہیں تھے۔

ان کے سر کے زخم کی وجہ سے احتیاطاً سی ٹی سکین کیا گیا۔

ان کی والدہ جیجا بائی نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے اس منظر کو یاد کیا جب وہ شیر کو چھڑّی سے مار رہی تھیں اور کہا ’میں نے سوچا میری بیٹی مرنے والی ہے۔‘

اس واقعے کو دس دن ہو چکے ہیں اور اب منظر عام پر آنے کے بعد تازہ تصاویر میں روپالی کے زخم بھر چکے ہیں۔

تاہم ان کی والدہ کے چہرے کا ایک زخم ابھی مکمل طور پر بھرا نہیں ہے۔

انھوں نے اس واقعے کے بعد فارسٹ گارڈ کو بلایا تھا تاہم 30 منٹ بعد یہ شیر وہاں سے چلا گیا۔

جنگل کے قریب ہونے کی وجہ سے اس گاؤں میں اکثر جنگلی جانور آتے رہتے ہیں۔

روپالی مشرام کا کہنا ہے کہ ’اس واقعے کے بعد مجھے گاؤں واپس جانے کی پریشانی تو ہے لیکن میں زیادہ خوفزدہ نہیں ہوں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں