49

شمالی وزیر ستان میں امن کا سورج طلوع ہو چکا ہے: فضل الرحمان

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ شمالی وزیر ستان میں امن کا سورج طلوع ہو چکا۔ پوری قوم و قبائل کی موجودگی میں مکمل امن کا اعلان کرتا ہوں اور قبائلیوں کو یہ ضمانت دیتا ہوں کہ قبائلی اپنے گھروں میں آئیں۔ اب مزید یہاں کوئی جنگ نہیں ہو گی۔ پاک فوج وزیر ستان میں مزید مسلح کاروائیاں بند کرے۔ آئندہ نسلوں اور بیٹیوں ،بہنوں ،ماؤں اور نوجوانوں کے مستقبل پر رحم کھائیں۔ جس سرزمین پر علم ،مدرسوں اور مساجد کے دروازے بند تھے آج وہ کھل گئے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کی اس سرزمین کی خوشخالی اور امن کیلئے کوششیں رنگ لے آئی ہیں۔ امریکہ کا خیال تھا کہ طلباء کو جنگ میں مصروف کرکے مدرسے، مساجد اور علم کے دروازے بند کر دیں گے مگر ہم کہتے ہیں کہ تم کتنے عالم ماروگے ہر گھر سے عالم نکلے گا۔ تم جتنا یہ جذبہ دباؤ گے یہ اُتنا بڑھتا جائے گا۔ یہاں پر قبائلیوں کے ہاتھوں میں بندوقیں رکھی 1968میں مفتی محمود نے تمام قبائلیوں کوحضرت محمد ؐ کے جھنڈے تلے اکٹھا کرکے یکجا کیا اور ان کے کندھے سے بندوق لے کر جمعیت علماء اسلام کی بنیادرکھی جب افغانستان میں روس کے خلاف جہادشروع ہوا تو قبائلیوں نے اس جنگ میں بھر پور حصہ لیا۔ 1999میں ،میں نے شمالی وزیر ستان میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر مجھے روکا گیا۔ بارہا میں نے کہا کہ اگر جے یو آئی اور مولانا فضل الرحمن کی وزیر ستان میں مداخلت رہی اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی تو قبائلیوں کے ہاتھوں میں بندوق نہیں ہونگے بلکہ امن رہے گا۔ مگر امریکہ نہیں چاہتا تھا 15سال سے ہم اس فلسفے کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو اشتعال دے کر اسلام کے نام پر ریاست کے خلاف اُ کسا رہے تھے مگر ہم پسپا نہیں ہوئے اور کھڑے رہے ۔آج اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے وہ جنگ جیت لی ہے اور یہ ثابت کیا کے علماء اور قبائل پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے شمالی وزیر ستان کی تحصیل میر علی میں دار العلوم نظامیہ عید ک میں فضلاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر وفاقی وزیر اکرم خان درانی ،آل فاٹا امیر مفتی عبدالشکور ،جنرل سیکرٹری مفتی اعجاز ،عبدالقادر حقانی اور دیگر علما ء نے بھی خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج ہم پاکستان میں اور نظام حکومت میں جن حالات کا سامنا کر رہے ہیں اس میں مذہب کی بجائے مغربیت کا غلبہ ہے ۔سیاسی جماعتیں یہودی ایجنڈے کے تحت ہمارے آباء واجداد کے تہذیب و تمدن پر حملے کر رہی ہیں ہم پر مغرب کی تہذیب مسلط کرکے بے حیائی ،عریانی پھیلائی جا رہی ہے تاکہ ہم ہمیشہ کیلئے غلام رہیں ۔جس قوم کی تہذیب و تمدن ،نظریہ ،مذہب ،حیاء نہ ہوں وہ قوم غلام بنانے میں بہت آسان ہوتی ہے۔ مگر ہم ہر گز اپنے ملک و مذہب کو امریکیوں ،یہودیوں کو حوالہ نہیں کریں گے۔ آئین میں تبدیلیاں تہذیب ،حیاء کے خاتمے میں تم مٹ جاؤ گے مگر یہ کبھی تم کرنہیں پاؤ گے گزشتہ ادوار میں امریکہ نے مدرسوں کے خاتمے کی کوشش کی تھی مدرسے تو قائم ہے مگر امریکہ نہیں رہا۔ اسی طرح تم نہیں رہو گے ہماری تہذیب ،مذہب قائم رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ وزیر ستان میں جے یو آئی کے جھنڈے تلے سیاست شروع ہوئی تھی جو آج بھی قائم ہے۔ یہاں پر کسی دوسرے سیاسی جماعت کی سیاست نہیں چلے گی قبائلیوں نے آقا ؐ کا جھنڈا اُ ٹھا نا ہوگا اور یہ پیغام دنیا کو دینا ہوگا کہ وزیر ستان میں جمعیت علماء اسلام کا نظریہ ہے اور رہے گا اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے 500فضلاء کی دستاربندی کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.