30

شمالی وزیرستان میں ایک سال کے دوران 72حاملہ خواتین کی ہلاکت کا انکشاف

شمالی وزیرستان میں ایک سال کے دوران زچگی کے دوران 72حاملہ خواتین کی ہلاکت کا انکشاف ،سہولیات ہیں نہ کسی نے سہولیات و ضروریات مہیا پر توجہ دی ہے تعلیمی نظام درہم بر ہم ہونے کی وجہ سے تاریکی پھیلی ہو ئی ہے ان خیالات کا اظہار این اے 48 کے آزاد امیدوار ملک ضیاء الرحمن نے بنوں کے مقامی ہوٹل میں جرگہ مشران سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اُنہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان قیام پاکستان کے ستر سال بعد انگریز کے کالے قانون سے آزاد ہوگیا ہے جو کہ اصل میں قبائلیوں کی جیت ہے اس کالے قانون کے باعث قبائلی علاقے صحت تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم رہا اب وہ وقت دور نہیں کہ وزیرستان عالمی معیار کے مطابق ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا فاٹا انضمام کے بعد آنے والے آئندہ عام انتخابات سے وزیرستان میں ایک نیا دور شروع ہوگا وزیرستان کے درجنوں قبیلوں نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے انشاء اللہ اگر موقع ملا تو سب سے پہلے وزیرستان میں تعلیم،، صحت اور مواصلاتی نظام پر توجہ دی جائیگی کیونکہ یہاں صحت اور تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے تاریکی پھیلی ہوئی ہے اُنہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کیساتھ اثر و رسوخ اتنے ہیں کہ اس وقت اپنی مدد آ پ کے تحت وزیرستان میں ہسپتال ، مواصلات کا نظام ٹھیک کرنے اور کالجز کی تعمیر کیلئے خطیر فنڈ لا سکتے ہیں مگر فی الحال نہیں ایسا اقدام نہیں اُٹھا تا کیونکہ سا را فنڈ غیر ذمہ داروں کے ہاتھ میں لگے گی جنہوں نے وزیرستان کو دونوں سے ہاتھوں سے لوٹا ہے انشاء اللہ منتخب ہو کر وزیرستان کو حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ اقوام کے صفہوں میں کھڑا کریں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.