90

شمالی وزیرستان: غلام خان کے مقام پر پاک افغان سرحد کھول دی گئی

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں غلام خان کے مقام پر پاک افغان سرحد ہر قسم کی تجارت کے لیے آزمائشی طور پر چار برس کے وقفے کے بعد دوبارہ کھول دی گئی ہے۔

جمعے کو سرحد کھلنے کے بعد تین کنٹینر افغانستان کی جانب روانہ ہوئے ہیں جنھیں وہاں موقع پر موجود پولیٹکل انتظامیہ اور دیگر حکام نے رخصت کیا۔

طورخم اور چمن کے بعد غلام خان کو افغانستان کے ساتھ تجارت کا تیسرا بڑا راستہ سمجھا جاتا ہے اور اس راستے کے ذریعے ہونے والی تجارت کا فائدہ خیبر پختونخوا کے جنوبی پسماندہ اضلاع کو ہو گا۔

فاٹا سیکریٹیریٹ کے ترجمان عبدالسلام وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سرحد آزمائشی بنیادوں پر کھول دی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ہفتے میں چار دن پاکستان سے اور دو دن افغانستان سے گاڑیاں سرحد عبور کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر تمام انتظامات کیے جا رہے ہیں جیسا کہ طور خم اور چمن بارڈ پر ہیں جہاں تمام متعلقہ اداروں کے دفاتر قائم ہیں اور ایک نظام کے تحت گاڑیاں سرحد عبور کرتی ہیں۔

عبدالسلام وزیر نے کہا کہ بہت جلد یہ سرحد ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مستقل بنیادوں پر کھول دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد ان علاقوں میں امن قائم کر دیا گیا ہے تاہم پھر بھی یہاں سے جانے اور آنے والی گاڑیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں کے اہلکار اور مقامی انتظامیہ کے اہلکار موجود ہوں گے۔

غلام خان سرحد کے راستے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے اففغانستان کے صوبے پکتیکا میں خوست تک ڈیڑھ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ شاہراہ امریکہ کے تعاون سے حال ہی میں مکمل کی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے اس راستے سے جانے پر پانچ سے چھ گھنٹے لگتے تھے۔

گذشتہ چار برسوس میں تین مرتبہ اس سرحدی گزر گاہ کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن آخری مرحلے میں یہ فیصلہ ملتوی کر دیا گیا۔

غلام خان سرحد شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں فوجی آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے بند کی دی گئی تھی۔

وزیرستان اور خیبر پختونِوا کے جنوبی اضلاع میں تاجر برادری نے سرحد کھولنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما ملک غلام خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں ممالک کے عوام کی خواہش تھی کہ یہ سرحد جلد کھول دی جائے اور آج جمعے کو ایسا ہو گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحد کھلنے سے پاکستان میں میرانشاہ اورافغانستان کے شہر خوست میں تجارتی سرگرمیاں بڑھنے سے دونوں جانب لوگوں کو روزگار کی سہولیات میسر آتی ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 27 فیصد تک کم ہو گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.