32

شام میں ’کیمیائی حملہ‘: جوابی کارروائی کے لیے ’امریکہ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اس کے پاس ’تمام آپشنز موجود ہیں‘ جبکہ مغربی رہنما فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال غور کر رہے ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس شام میں امریکی میزائلوں کے حملے کے لیے تیار رہے۔ امریکہ کی جانب سے یہ ممکنہ اقدام شام میں مبینہ کیمائی حملے کے جواب میں کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ‘روس تیار رہو میزائل آ رہے ہیں۔ بہترین، نئے اور سمارٹ۔ تمھیں گیس سے لوگوں کو ہلاک کرنے والے جانور کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔’

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے صحافیوں کو بتایا کہ فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس واقعے کا ذمہ دار روس اور شام کو ٹھہراتا ہے۔

امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس جمعرات کو منعقد ہورہا ہے جبکہ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے بھی کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے۔

امدادی کارکنوں اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شام میں باغیوں کے زیرانتظام قصبے دوما میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

روس تیار رہے، نئے اور سمارٹ میزائل آ رہے ہیں: ٹرمپ

’دوما پر کیمیائی حملے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی‘

ٹرمپ کا شام میں ’موثر‘ جوابی کارروائی کا عزم

ڈبلیو ایچ او کا مشرقی دوما تک رسائی کا مطالبہ

تاہم روس کی حمایت یافتہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کیمیائی حملے کی تردید کرتی ہے۔

سارہ سینڈرز نے بدھ کو نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی صدر کے پاس کئی راستے موجود ہیں اور ابھی تک ’ہم نے مخصوص کارروائیوں کے بارے میں کوئی منصوبہ ترتیب نہیں دیا۔‘

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس شام میں امریکی میزائلوں کے حملے کے لیے تیار رہے۔

شامی افواج دوما کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں
صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘روس تیار رہو میزائل آ رہے ہیں۔ بہترین، نئے اور سمارٹ۔ تمھیں گیس سے لوگوں کو ہلاک کرنے والے جانور کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔’

دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ وہ شام کی جانب آنے والے تمام میزائلوں کو مار گرائے گا۔

اقوامِ متحدہ میں روسی کے مندوب وسیلی نیبینزیا نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شام میں کیمیائی حملے کے جواب میں کسی فوجی کارروائی سے باز رہے۔

انھوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اس نے کسی قسم کی ’غیر قانونی فوجی کارروائی‘ کی تو وہ اس کا ذمہ دار ہو گا۔

تاہم مغربی رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ دوما پر کیمیائی حملے کا جواب دینے کے لیے مل کر کام کرنے پر متفق ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.