59

شام میں ترکی کی فوج کارروائی میں تیزی، ایک ترک فوجی اور درجنوں جنگجو ہلاک

ترکی کی شمال مشرقی شام میں جاری فوجی کارروائی میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ امریکہ کے ایوانِ نمائندگان میں حکمران جماعت رپبلکن پارٹی کے ارکان نے اس کارروائی پر ترکی کے خلاف پابندیوں کا بل پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق فوج نے اپنے پہلے ترک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ اب تک 11 عام شہریوں اور کرد جنگجوؤں کی زیرِ قیادت سیریئن ڈیموکریٹ فورس اور ترکی کے حامی شامی درجنوں جنگجوؤں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

ترک افواج کی جانب سے حملوں میں تیزی آنے کے بعد شمالی شام میں ہزاروں افراد نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا ہے اور محفوظ علاقوں کی جانب نقل مکانی کی ہے۔

شامی علاقے میں ترک آپریشن بدھ کو شروع ہوا تھا اور ترک فوج نے فی الوقت سرحدی قصبوں راس العین اور تل ابیض کے درمیانی علاقے میں پیش قدمی کی ہے جس کے بعد امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ترک صدر نے گذشتہ روز یورپی یونین کی تنبیہ کی تھی کہ ’اگر آپ نے ہماری کارروائی کو حملہ قرار دیا تو ہمارا کام بہت آسان ہوگا، ہم اپنے دروازے کھول دیں گے اور 36 لاکھ پناہ گزینوں کی آپ کی جانب روانہ کر دیں گے۔‘

صدر اردوغان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب کی اس آپریشن کے بارے میں تنقید برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ پہلے یمن میں اموات کا جواب دیں۔‘

امریکی ایوانِ نمائندگان کے رپبلکن ارکان کی جانب سے ترکی پر پابندیوں کا بل پیش کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اس تنازعے میں ثالثی کے خواہاں ہیں۔

کانگریس کی خاتون رکن لز چینی نے کہا کہ ترکی کو خطے میں ’ہمارے کرد اتحادیوں پر بےرحمی سے حملہ کرنے کے سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ ترکی کی شام میں کردوں کے خلاف عسکری کارروائی صدر ٹرمپ کی جانب سے شمال مشرقی شام سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی اور اس اقدام کو دراصل حملے کی اجازت کے حربے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

ترکی کرد ملیشیا (ایس ڈی ایف) کو ‘دہشت گرد’ قرار دیتا ہے جو اس کے بقول ترک مخالف شورش کی حمایت کرتی ہے۔ ایس ڈی ایف دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کی کلیدی حریف رہی ہے اور اس نے امریکہ کی جانب سے ترکی کو کارروائی سے نہ روکنے کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا نے ترکی کو سرحد پار سے حملہ کرنے کی موثر طور پر گرین لائٹ دی جس کے بارے میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد شام کی سرحد کے ساتھ 480 کلومیٹر ایک ’محفوظ زون‘ بنانا ہے۔

تاہم یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ کارروائی نہ صرف کردوں کی نسل کشی کا موجب ہو سکتی ہے بلکہ اس کی وجہ سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ بھی سر اٹھا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.