46

سی پیک پاکستان اور چین کیساتھ افغانستان کیلئے بھی بے پناہ اہمیت کا حامل ہے ، ممنون حسین

صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان اور چین کے ساتھ ساتھ افغانستان کیلئے بھی بے پناہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ افغانستان سمیت ماسکو سے لے کر وسط ایشیا تک کا خطہ مستقبل میں اس سے بیش بہا فوائد حاصل کرسکتا ہے۔صدر مملکت ممنون حسین نے یہ بات منگل کو ایوان صدر میں پاکستان میں زیر تعلیم افغان طلبا پر بنائی جانیوالی دستاویزی فلم کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
تقریب سے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد اورپاکستان میں افغانستان کے سفیرعمر زخیلوال نے بھی خطاب کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ اقتصادی راہداری کی صورت میں پاکستان اور افغانستان سمیت دیگر ممالک کے عوام ، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے بے شمار مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ اقتصادی راہداری کے نام کی وجہ سے یہ سمجھنا درست نہ ہو گا کہ اس کا تعلق صرف پاکستان اور چین سے ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ راہداری جتنی پاکستان اور چین کی ہے ، اس سے بڑھ کر افغانستان کی ہے کیونکہ وسط ایشیا سے لے کر روس تک د نیا کی ایک بہت بڑی آبادی اس راہداری سے منسلک ہونے کے لیے بے چین ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس راہداری کے ذریعے جب دنیا کے بہت سے خطوں کے درمیان تجارتی اور اقتصادی روابط کا سلسلہ شروع ہو گا تو اس کے ساتھ ہی نئے علوم اور نئی ٹیکنالوجیزبھی اس خطے میں آئیں گی جن سے فائدہ اٹھا نے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے نوجوان جدید ترین علوم و فنون پر دسترس حاصل کریں افغان طلبا جن اسکالرشپس پر پاکستان آئے ہیں ، ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ آنے والے دور کے تقاضوں پر پورا اترنے کے لیے خود کو تیار کرسکیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور ہمارے دیگر مخلص دوست افغانستان میں امن و سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے جاری اس جنگ کے دوران ہمارے افغان بھائیوں نے بہت کچھ کھویا ہے اور پاکستان کا بھی بہت نقصان ہوا ہے۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے پاکستان اپنے ستر ہزار سے زائد پیا رے بیٹے، بیٹیوں ، بزرگوں اور محافظوں سے محروم ہوا۔
اس دوران میں ہمارا بے پناہ مالی نقصان بھی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات نا پسندیدہ طاقتیں اور دشمن قوتیں اپنے ناپاک مقاصد کے لیے غلط فہمیوں کو ہوا دیتی ہیں اور قربتوں کو فاصلوں میں بدلنے پر کمر بستہ ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کے حالات میں ذمہ دار قومیں بالغ نظری کے ساتھ زمینی حقائق کو سمجھ کر فیصلے کیا کرتی ہیں۔ خطے کی صورتِ حال کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ ایسا ہی کیا جائے تاکہ پاکستان و افغانستان سمیت علاقے کی دیگر تمام قومیں امن و آشتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ یہ امر باعثِ مسرّت ہے کہ تھوڑے ہی دنوں میں پاکستان میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد تین ہزار سے بڑھ کر چھ ہزار ہو جائے گی جس سے زیادہ سے زیادہ افغان طلبہ کو بہتر تعلیم کے مواقع میّسر آئیں گے۔ انھوں نے توقع کا اظہار کیا کہ افغان طلبا تعلیم مکمل کرنے کے بعد زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنے وطن کی خدمت کر یں گے تاکہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بین الاقوامی حالات اور جنگوں کی وجہ سے افغانستان کا جو نقصان ہوا ہے اس کی تلافی کرسکیں۔
صدر مملکت نے توقع کا اظہار کیا کہ افغان طلبا وطن واپس جا کر پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے بھی کام کریں گے۔ اس موقع پر انھوں نے پاکستان میں زیر تعلیم افغان بچوں کی نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں سے متعلق پیش کی گئی ڈاکومنٹری کو سراہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.