26

سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد سست روی کا شکار ہے؟

وزیرِاعظم عمران خان کے حالیہ دورہ چین سے عین قبل سی پیک اتھارٹی کا بذریعہ صدارتی آرڈیننس قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے چینی حکام کو ایک مرتبہ پھر یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ سی پیک کے منصوبوں پر عملدرآمد کو سست روی کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔

تاہم گذشتہ ایک سال کے دوران انفراسٹرکچر کے منصوبوں مثلاً گوادر بندرگاہ اور سپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیز) پر عمل درآمد بعض ماہرین کے مطابق سست روی کا شکار ہے۔

وزیرِاعظم عمران خان کی جانب سے سی پیک اتھارٹی کے قیام کا عندیہ رواں سال اگست میں دیا گیا تھا جسے اس ہفتے کے آغاز پر صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قائم کیا گیا ہے۔

چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور آرڈیننس 2019 کے تحت قائم ہونے والا ادارہ وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرے گی جو اس سے پہلے سی پیک منصوبے پر عملدرآمد کے ادارے کے طور پر کام کر رہی تھی۔ یہ اتھارٹی پاکستان اور چین کے درمیان قائم ورکنگ گروپس اور دیگر اداروں کے اجلاس بلانے کے لیے رابطہ کار کا کام کرے گی۔

پاکستان کے نامور معاشی تجزیہ کار سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بعض اہم منصوبوں پر کام سست روی کا شکار ہے اور مدت پوری ہونے کے باوجود بعض منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔

’گذشتہ سال حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں 30 فیصد تک کٹوتی کی جس کی وجہ سے پاکستان نے جو رقم سی پیک سے منسلک منصوبوں پر خرچ کرنی تھی وہ جاری نہیں ہو سکی اور یہ ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے جن میں ملتان سکھر موٹروے بھی شامل ہے۔‘

اس کے علاوہ، ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق سی پیک کے تحت تجویز کردہ خصوصی معاشی زونز (ایس ای زیز) پر بھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

پاکستان اور چین نے نو ایس ای زیز پر اتفاق کیا تھا لیکن ماہرین کے مطابق ایک کو بھی اب تک آپریشنل نہیں کیا جا سکا ہے۔

گوادر ماسٹر پلان کے بارے میں متعدد اجلاس ہوئے لیکن اس پر بھی کوئی باضابطہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ ان تمام چیزوں پر، بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں چینی حکام پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

وزارت منصوبہ بندی کے سربراہ وفاقی وزیر خسرور بختیار کا کہنا ہے کہ حکومت سی پیک کے تمام منصوبوں کو برقت مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

’ہم تو سی پیک میں مزید توسیع کر رہے ہیں اور ان میں نئے منصوبے شامل کیے جا رہے ہیں کیونکہ ان منصوبوں کا پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ہے۔‘

پاکستانی اور چینی حکام نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے دورِ حکومت میں 46 ارب ڈالر کے توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے
خسرو بختیار کے مطابق وزیراعظم کے دورۂ چین کے بعد ان منصوبوں پر عمل میں مزید تیزی آئے گی۔

پاکستانی حکام اس بارے میں بھی بہت پرامید ہیں کہ چینی صدر شی جن پنگ ان میں سے بعض منصوبوں کا افتتاح کرنے کے لیے اگلے سال کے وسط میں پاکستان آئیں گے۔

پاکستانی اور چینی حکام نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے دورِ حکومت میں 46 ارب ڈالر کے توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔ مسلم لیگ (ن) حکومت کے اختتام تک توانائی کے 16 ہزار میگاواٹ کے کول پاور اور صاف توانائی کے منصوبے مکمل کیے گئے۔

اس کے علاوہ توانائی اور انفراسٹرکچر کے تقریباً 30 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں آٹھ سے 16 ارب ڈالر کے توانائی کے نو منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جن میں ساہیوال کول پاور پراجیکٹ (1320 میگاواٹ)، پورٹ قاسم کول پاور پراجیکٹ (1320 میگاواٹ)، حبکو کول پاور پراجیکٹ (1320 میگاواٹ)، اینگرو تھر کول پاور پراجیکٹ (660 میگاواٹ)، قائدِ اعظم سولر پارک (400 میگاواٹ)، ہائیڈرو چائنہ داؤد ونڈ فارم (50 میگاواٹ)، یو ای پی ونڈ فارم (50 میگاواٹ)، سچل ونڈ فارم (100 میگاواٹ) اور جھمپیر ونڈ فارم (100 میگاواٹ) شامل ہیں۔

پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دورہ چین کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان پاکستان سٹیل مل چین کے حوالے کرنے کے آپشن پر بات چیت کریں گے۔ اس کے علاوہ ایم ایل ون منصوبہ جو کافی عرصے سے سردخانے کی نذر ہے، اس پر بھی بات چیت اور فنانسنگ کے امور طے کیے جانے کے امکانات ہیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان چینی حکام کو بونجی ہائیڈروپاور پراجیکٹ پر چینی حکام کو کام کرنے کی پیشکش کرے گا۔ اس کے علاہ ریفائنری کے قیام کی پیشکش بھی کی جائے گی۔

سی پیک اتھارٹی کا قیام
اپوزیشن ارکان کے اعتراضات کے باوجود حکومت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اس اتھارٹی کا قیام عمل میں لے آئی ہے اور ارکانِ پارلیمنٹ کو آرڈیننس کے ذریعے اس کے قیام پر اعتراضات ہیں۔

جب سی پیک کے منصوبوں پر عملدرآمد شروع ہوا، تو اس وقت بھی سی پیک اتھارٹی کے قیام کی تجویز سامنے آئی تھی لیکن سابقہ حکومت نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔

سی پیک کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد اس حکومت کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے تین سالہ پروگرام کے اندر میکرواکنامک اہداف سہ ماہی بنیادوں پر حاصل کرنے کا پابند ہے جس کے تحت ریوینیو اہداف کو صرف آسان طریقے یعنی ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے ذریعے ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.