15

سیہون میں دھمال: ’ہاتھ جیسے خودبخود چلنے لگتے ہوں‘

سیہون میں بارش ہو، طوفان ہو یا پھر کوئی حادثہ اور آفت۔ قلندر شہباز کے مزار سے دھمال کی آواز ضرور گونجتی ہے۔ یہاں صرف ماہ محرم الحرام کے پہلے عشرے یعنی ابتدائی دس روز خاموشی رہتی ہے۔

شام کو مغرب کی اذان کے بعد دھمال کورٹ میں داخلی راستے کے گیٹ پر موجود نوجوان گھنٹا بجانا شروع کرتا ہے، ساتھ میں نقارے پر زوردار ضرب لگنا شروع ہو جاتی ہے۔

گذشتہ سال جس روز دھماکہ ہوا تھا اس وقت دھمال شروع ہوئے ابھی دس منٹ ہی ہوئے تھے، گدا حسین فقیر کے مطابق وہ جب بجاتے ہیں تو سامنے ’مالک‘ کا دیدار کرتے ہیں، نوبت پر سٹک خودبخود چلتی جاتی ہے جیسے ہاتھ ان کے کہنے کے بغیر چلنے لگتے ہیں۔

’جب دھماکہ ہوا ہم بجاتے جارہے تھے زائرین کی ایک بڑی تعداد جب باہر نکلی تو سارے نقارے آگے پیچھے ہوگئے اور میرے ہاتھ رک گئے۔ میں پہلا شخص تھا جو مزار کے اندر داخل ہوا، جہاں انسانوں کے ڈھیر لگ ہوئے تھے میں نے سلام کیا اور رونا پیٹنا شروع کردیا۔‘

سیہون کو بعض مورخین سیوستان یا شیو دیوتا کا آستان بھی لکھتے رہے ہیں اور دھمال کو شیو کے تانترک رقص سے جوڑا جاتا ہے تاہم قلندر شہباز کے گدی نشین ڈاکٹر مہدی شاہ دھمال کو واقعے کربلا اور امام زین العابدین کے صحرا میں پیدل سفر کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔

جمعرات، اسلامی مہینے کے پہلے ہفتے اور بعض دیگر دنوں پر ایک گھنٹے کی دھمال ہوتی ہے جبکہ جبکہ باقی ایام پر آدھے گھنٹہ دھمال کی جاتی ہے، خصوصی دنوں پر بڑے نقارے بجائے جاتے ہیں جنھیں نوبت بھی کہا جاتا ہے۔ فقیر گدا حسین کے مطابق نقارے کے بجانے میں ایک دھمال ہے، اس کے علاوہ بڑا شادمانہ، چھوٹا شادمانہ اور چھوٹی سواری بھی بجائی جاتی ہے، نقارے کے ساتھ شہنائی بھی لازمی ہے۔

گدا حسین انڑ کی یہ نویں پیڑھی ہے جو دھمال بجا رہی ہے، بقول ان کے اس کے علاوہ ان کا کوئی دھندہ یا کاروبار نہیں سارا دن گھر میں ہوتے ہیں اور شام کو آکر یہاں دھمال بجاتے ہیں۔

’میں نے دو سال کی عمر سے والد کی گود میں بیٹھ کر بجانا شروع کیا، میرے چار بیٹے اور سات بھائی ہیں سارے ہی بجاتے ہیں۔ عام دنوں میں جیسے آدھا گھنٹہ ہوتا ہے ابتدا میں کرتا ہوں اس کے بعد دس منٹ چھوٹا بھائی اور اگلے دس منٹ دوسرا بھائی بجائے گا جبکہ ایک گھنٹے کے دھمال میں آدھا گھنٹہ میں بجاتا ہوں جبکہ آدھا گھنٹہ بھائی بجاتے ہیں۔‘

دھمال کے صحن میں دونوں اطراف میں خواتین ہوتی ہیں جبکہ رسا باندھ کر مردوں کو الگ کیا جاتا ہے، ایک وہ مرد ہوتے ہیں جو بیٹھ کر دھمال سنتے ہیں جبکہ دوسرے وہ ہوتے ہیں جو دھمال ڈالتے ہیں ان میں مقامی زائرین کے ساتھ زیادہ تر دیگر شہروں سے آنے زائرین کی ہوتی ہے۔

گدا حسین فقیر کا کہنا ہے کہ انھیں یوں ہی لگتا ہے کہ سال نہیں ہوا بلکہ کل پرسوں کا واقعہ ہے، دھماکے کے بعد عوام جیسے مچل گئی ہے کیونکہ عوام سمجھتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اگر یہ بمبار دھمال کے دوران پھٹ جاتا تو خون کی ندیاں بہہ آتیں کیونکہ دس ہزار سے زائد لوگ دھمال کورٹ میں موجود تھے۔

دھمال کے دوران لوگ دھمال بجانے والوں کو دس، بیس یا 50 روپے بطور داد دیتے ہیں، جبکہ دھمال کے بعد یہ فقیر خود آواز لگا کر لوگوں سے داد کی وصولی کرتے ہیں۔

گدا حسین یہ نہیں جانتے کہ جس نے خودکش بم دھماکہ کیا وہ کون تھا؟ لیکن وہ کہتے ہیں کہ شہنشاہ قلندر کے جو زائرین تھے وہان ان کے پاس آئے تھے یہاں سے جاتے ہوئے دھماکہ ہوا، یہ کہتے ہوئے ان آنکھیں نم ہوجاتیں اور آواز بھر آتی ہے ۔’اس میں جو بھی بچے ہلاک ہوئے ایسے سمجھو ہمارے اپنے ہی تھے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.