32

‘سینیٹ کے حلال اور حرام کے ووٹ’

طاہر عمران

سوشلستان میں ‘طیفا’ ٹربل میں ہے۔ اس بارے میں مزید پڑھنے کے لیے آپ گلوکارہ میشا شفیع کی ٹوئٹر ٹائم لائن پر جا کر پڑھ سکتے ہیں۔ مگر سوشلستان میں لوگ پریشان ہیں کہ وہ مریم نواز کی جانب سے اپنی والدہ اور والد کے ساتھ ہسپتال کے بستر کے ساتھ تصاویر پر ہمدردی کا اظہار کریں یا اس پر بھی تنقید کریں۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جو رٹا ہوا پرانا ڈائیلاگ لکھ رہے ہیں کہ ‘یہ سب ہمدردی حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔‘

مگر ہم بات کریں گے پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اپنے اراکین کے نام ظاہر کرنے کے بارے میں سوشل میڈیا پر کیسا ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔

‘سینیٹ کے ہلال اور حرام کے ووٹ’
سوشل میڈیا پر عمران خان کی جانب سے تحریکِ انصاف کے اُن اراکین کے نام ظاہر کرنے پر تعریف کی جا رہی ہے جنھوں نے سینیٹ کے انتخاب کے دوران اپنا ووٹ پارٹی کے چیئرمین کے مطابق بیچا۔ عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ وہ ان اراکین کے بارے میں نیب کو مطلع کریں گے۔

جہاں مختلف جانب سے اس پر عمران خان اور تحریکِ انصاف کی تعریف کی جا رہی ہے وہیں مختلف سوالات بھی اٹھائے جا رہے جن میں عمران خان پر ‘منافقت’ کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے لکھا ‘مبارک ہو عمران۔ درست سمت میں قدم۔ دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی پیروی کرنی چاہیے اور ایسے اراکین کو فارغ کرنا چاہیے۔’

پاک سرزمین پارٹی کے رہنما رضا ہارون نے لکھا ‘پی ٹی آئی کے لیے لازمی ہے کہ وہ اس ہارس ٹریڈنگ سے فائدہ حاصل کرنے منتخب سینیٹروں کے نام بھی ظاہر کرے جنھوں نے ان ایم پی ایز کے ووٹ خریدے۔ الیکشن کمیشن کو ان کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لینا چاہیے۔’

زاہد گشکوری کا کہنا تھا ‘پی ٹی آئی کی جانب سے 20 ایم پی ایز کو سینیٹ الیکشن میں اپنی ‘وفاداری بیچنے’ کی وجہ سے جماعت سے نکالنے کا عمل قابلِ تحسین ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے۔ یہ عوام کا منتخب نمائندوں پر اعتماد بحال کرنے کا درست طریقہ ہے۔ پاکستانی سیاست میں ایسا کیا جانا بہت مثالی ہے۔’

اسامہ کا خیال تھا ‘اس ملک میں کوئی اور رہنما اتنا اصول پسند اور ہمت والا نہیں جو اپنے 20 اراکینِ اسمبلی کو الیکشن کے سال میں نکال باہر کرے۔ زبردست عمران خان۔’

مگر جہاں تعریف اور تحسین ہورہی ہے وہیں تنقید بھی ہو رہی ہے۔

صحافی طلعت حسین نے سوال کیا ‘سینیٹ کے انتخاب کے لیے ووٹ بیچنا برا ہے۔ سینیٹ الیکشن سچے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی جنھوں نے دوسرے امید واروں کو ووٹ دیا وہ بدعنوان ہیں۔ مگر پنجاب کے اراکین جنھوں نے چوہدری سرور کو ووٹ دیا وہ باضمیر ہیں اور یقیناً اعظم سواتی نے تو بالکل کچھ غلط نہیں کیا۔’

صحافی ارشد وحید چوہدری نے لکھا ‘عمران خان نے جن پارٹی ارکان کو ووٹ بیچنے پر شو کاز دیا ان کی اکثریت نے مطالبہ کر دیا کہ خان صاحب جواب دیں کہ انھوں نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں زرداری کو کتنے میں ووٹ بیچا؟ عمران خان کو وضاحت کر کے ایسے سب نقادوں کا منہ بند کر دینا چاہیے۔’

مرتضیٰ سولنگی نے وضاحت مانگتے ہوئے لکھا ‘مجھے یہ بات زرا سمجھ لینے دیں۔ پی ٹی آئی کے ایم پی ایز نے اپنا ووٹ پاکستان پیپلز پارٹی کو بیچا تو وہ برا۔ عمران خان نے اپنے سارے ووٹ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین اور چیئرمین کے امیدوار کو منتخب کروانے میں مبینہ طور پر ہارس ٹرینڈنگ کے ذریعے دیے۔ یہ اس سارے عمل کو کیا کوشر بنا دیتا ہے اور ہمیں حلال سینیٹر چوہدری سرور کے بارے میں تو بالکل بات نہیں کرنی چاہیے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.