28

سینیٹ انتخابات : پی ایم ایل-ن پہلے، پی پی پی دوسرے اور پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی 52 نشستوں کے انتخاب کے غیر سرکاری اور عبوری نتائج سامنے آگئے ہیں ، جن کے مطابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے اور 104 ارکان پر مشتمل ایوان میں اس کی نشستوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی ہفتے کے روز سینیٹ کے منعقدہ انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہی ہے۔ اگرچہ اس کی سینیٹ میں چھے نشستیں کم ہوگئی ہیں لیکن اس نے توقعات کے برعکس تین نشستیں زیادہ جیت لی ہیں اور اس کے ارکان کی تعداد 19 ہوگئی ہے۔عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) اپنی متوقع نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے ۔اب سینیٹ میں اس کے ارکان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور ان کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔

صوبہ پنجاب سے سینیٹ کے 12 ارکان کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی میں ووٹ ڈالے گئے تھے اور حکمراں مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ 11 آزاد امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ ایک نشست پی ٹی آئی کے حصے میں آئی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں سبکدوش وزیراعظم میاں نواز شریف کی بطور پارٹی صدر نااہلی کے بعد پی ایم ایل – این کے امیدواروں نے سینیٹ کا انتخاب آزاد حیثیت میں لڑا ہے۔پنجاب سے سینیٹ کی بارھویں نشست کے لیے پی ٹی آئی اور پی ایم ایل ن کے درمیان سخت مقابلہ تھا مگر اس عام نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور جیت گئے ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے سے سینیٹ کی دو ٹیکنو کریٹ نشستوں پر پی ایم ایل ن کے اسحاق ڈار اور حافظ عبدالکریم ، خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر نزہت صادق اور سعدیہ عباسی اور اقلیتی نشست پر کامران مائیکل نے کامیابی حاصل کی ہے۔پی ایم ایل ان کے امیدواروں ڈاکٹر آصف کرمانی ، شاہین بٹ ، ہارون خان ، مصدق ملک ، رانا مقبول اور رانا محمود الحسن نے عام نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

صوبہ سندھ سے سینیٹ کی 12نشستوں میں سے 10 پیپلز پارٹی ، ایک ایم کیو ایم اور ایک پاکستان مسلم لیگ فنکشنل نے جیتی ہے۔پی پی پی کے نومنتخب سینیٹروں میں سبکدوش ہونے والے چئیرمین سینیٹ رضا ربانی بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ مولا بخش چانڈیو ، محمد علی جاموٹ ،امام الدین شوقین اور مصطفیٰ نواز کھوکھر عام نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ پی پی پی کے امیدوار سکندر میندھرو اور رخسانہ زبیری ٹیکنو کریٹ کی نشستوں پر کامیاب ہوئی ہیں۔کرشنا کوہلی اور قرۃ العین مری نے خواتین کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔کرشنا کوہلی سینیٹ کی منتخب ہونے والی پہلی دلت رکن ہوں گی۔دلتوں کو ہندوؤں کے ذات پات کے نظام میں سب سے نچلے درجے میں شمار کیا جاتا ہے۔پی پی پی کے انور لال دین سندھ سے اقلیتوں کی مخصوص نشست پر کامیاب ہوئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی اکثریت تھی اور وہ سینیٹ کی 12 نشستوں میں سے پانچ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ پی ایم ایل –ن کے حمایت یافتہ دو امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ پی پی پی کے حصے میں دو نشستیں آئی ہیں اور جمعیت العلماء اسلام (ف ) اور جماعت اسلامی کا ایک ایک امیدوار جیتا ہے۔پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مولانا سمیع الحق صرف تین ووٹ لینے میں کامیاب ہوسکے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے سینیٹ کی دونوں نشستوں پر پی ایم ایل-ن کے حمایت یافتہ امیدوار مشاہد حسین سید اور اسد جونیجو کامیاب ہوگئے ہیں۔وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں فاٹا سے چاروں آزاد امیدوار سینیٹ کا رکن بننے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ان کے نام یہ ہیں : شمیم آفریدی ، مرزا محمد آفریدی ، ہدایت اللہ اور ہلال الرحمان ۔

صوبہ بلوچستان سے سینیٹ کی 12 نشستوں پر چھے آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ،پختون خوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے دو ، دو نشستیں جیتی ہیں اور جے یو آئی –ف کے حصے میں ایک نشست آئی ہے۔اس صوبے میں پی ایم ایل –ن کو بڑا دھچکا لگا ہے اور وہ سینیٹ کی ایک بھی نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جبکہ اس کے ناراض ارکان اور پی ایم ایل -ق پر مشتمل اتحاد کے حمایت یافتہ چھے امیدوار وں نے کامیابی حاصل کی ہے۔

سینیٹ کی ان 52 نشستوں پر 133 امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔ان میں اکثریت آزاد امیدواروں کی تھی۔اس لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی حمایت کے حصول کے لیے روپے کی خوب ریل پیل رہی ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق فاٹا سے سینیٹ کے امیدواروں نے ایک ایک کروڑ روپے تک ارکان اسمبلی کی وفاداری خرید کرنے کے لیے ادا کیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں