62

’سپر بگ‘: پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی نئی قسم پر امریکہ کی وارننگ

پاکستان میں مزاحمتی ٹائیفائیڈ کی وبا پھوٹنے کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان سفر کرنے والے اپنے شہریوں کے لیے وارننگ جاری کرتے ہوئے انھیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا ہے۔

ایکس ڈی آر نامی ٹائیفائیڈ کی اس قسم کے بارے میں 2016 میں معلوم ہوا تھا جب صوبہ سندھ کے دو علاقوں لطیف آباد اور قاسم آباد میں اس بیماری کے چند کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

آغا خان یونیورسٹی اور برطانیہ کی کیمبرج یونیوسٹی کے طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق اس نئی قسم پر بہت کم اینٹی بائیوٹکس اثر کرتی ہیں اور یہ دوبارہ خوبخود جنم لے لیتی ہے۔

پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی نئی قسم پر مدافعتی ادویات بے اثر

’زہریلے پانی سے کروڑوں پاکستانیوں کو خطرہ‘

امریکی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن یعنی سی ڈی سی کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا بشمول پاکستان سفر کرنے والوں کو اپنی صحت کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیں جن میں ٹائیفائیڈ کی ویکسین لگوانا شامل ہے۔

سی ڈی سی کے مطابق ان علاقوں کے، جن میں اس قسم کے ٹائیفائیڈ کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، سفر کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ خوراک اور پانی کے حوالے سے ہدایات پر عمل کریں۔

اس بارے میں آغا خان یونیورسٹی سے وابستہ طاہر یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ نومبر 2016 میں اس ٹائیفائیڈ کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد اس پر تحقیق کی گئی جس سے مزید پتا چلا کہ اس بیماری کے جراثیم پانچ اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔

طاہر یوسفزئی کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس بیماری سے متاثر ہونے والوں میں زیادہ تعداد چھوٹے بچوں کی ہے، اور بچوں کے لیے جو ویکسین اس وقت موجود تھی وہ عالمی ادارہ صحت سے منظور شدہ نہیں تھی۔

تاہم انھوں نے کہا کہ جیسے ہی عالمی ادارہ صحت نے نئی ٹائپ بار۔ ٹی وی سی ویکسین کی منظوری دی تو اسے حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد اور قاسم آباد کے تقریباً 250,000 بچوں کے لیے منگوا لیا گیا، جن میں سے اب تک 70 ہزار کو ویکسینیں لگائی جا چکی ہیں۔

آغاز خان یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے طاہر یوسفزئی نے امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والی اس وارننگ کے بارے میں بتایا کہ امریکہ میں بھی جو تین کیسز رپورٹ ہوئے ہیں وہ پاکستان کا سفر کر چکے تھے، جبکہ ایک کیس جو برطانیہ میں رپورٹ ہوا ہے ان کی ٹریول ہسٹری میں بھی پاکستان کے یہی علاقے شامل تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اب تک اس ٹائیفائیڈ کے تقریباً ایک ہزار کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

علامات
تیز بخار اس کی علامات میں سے ایک ہے تاہم ایسا بخار جو تین یا اس سے زیادہ دنوں تک رہے اور عام ادویات سے دور نہ ہو۔
اس کے علاوہ جسم میں درد پیٹ میں درد اور قے آنا اس کی علامات میں شامل ہیں۔
تاہم طاہر یوسفزئی کے مطابق ٹائیفائیڈ اور ملیریا جیسی بیماریوں کی علامات تقریباً ایک جیسی ہی ہو سکتی ہیں اس لیے سب سے پہلے خون کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ یہ علامات کہیں ٹائیفائیڈ کی تو نہیں۔

اس قسم کی بیماری سے بچنے کے لیے تو سب سے ضروری اور پہلا کام ویکسین لگوانا ہے۔ چونکہ اس بیماری سے متاثرہ افراد میں زیادہ تر 15 سال سے کم عمر کے بچے ہیں لیکن بڑی عمر کے افراد کو بھی ویکسین لگوانی چائیے۔

اس کے علاوہ جو احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں اس میں پانی ابال کر استعمال کرنا، بازار سے ملنے والی برف سے دور رہنا، ٹھیلے وغیرہ پر سے کھانے پینے والی اشیا کو خریدنے سے قبل اس بات کا اطمینان کر لینا کہ وہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہیں شامل ہے۔

صفائی کا خاص خیال رکھنا، سیورج کا نظام بہتر بنانا اور گھروں میں موجود ٹینکیوں میں پانی کو صاف کرنے والی گولیوں کا استعمال بھی ان احتیاطی تدابیر میں شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.