172

’سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ سے ایچ آئی وی کے آثار ختم‘

برطانوی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کے نتیجے میں ایک ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص کے جسم میں اس بیماری کے آثار موجود نہیں رہے ہیں۔

نیچر نامی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔

لندن سے تعلق رکھنے والا یہ مریض کینسر کا علاج کروا رہا تھا اور اب 18 ماہ سے انھیں لاحق ایچ آئی وی کے کوئی آثار موجود ہیں اور وہ اس کی ادویات بھی نہیں لے رہے۔

تاہم محققین کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ مریض ایچ آئی وی سے شفایاب ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے شکار صحت مند لوگوں کا اس طریقے سے علاج کرنا عملی نہیں لیکن یہ طریقہ ممکنہ علاج تلاش کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

برطانوی مریض میں 2003 میں ایچ آئی وی جبکہ 2012 میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

کینسر کا علاج کرنے کے لیے مریض کی کیمو تھراپی کی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ مریض کے جسم میں ایسے ڈونر کے سٹیم سیلز داخل کیے گئے جن پر ایچ آئی وی اثر انداز نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے نتیجے میں مریض کا کینسر اور ایچ آئی وی دونوں کے اثرات دب گئے۔

مریض کے علاج میں یونیورسٹی کالج لندن، امپیریئل کالج لندن، کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین شامل تھے۔

یہ خلافِ معمول بات نہیں ہے
ایسا دوسری بار ہوا ہے کہ ایک مریض کا اس طریقے سے علاج کرنے سے اس کے جسم میں ایچ آئی وی کے جراثیم عارضی طور پر ختم ہوئے ہیں۔

دس سال پہلے برلن میں ایک مریض نے ہڈیوں کے گودے کا ٹرانسپلانٹ کروایا اور اس کے ڈونر کو وائرس سے قدرتی مدافعت حاصل تھی۔

ٹموتھی براؤن ایچ آئی وی/ ایڈز کو شکست دینے والے پہلے شخص تھے جن کے دو ٹرانسپلانٹ اور لیوکیمیا یعنی خون کے کینسر کے لیے ریڈیو تھراپی کی گئی۔

یو سی ایل سے تعلق رکھنے والے اس تحقیق کے مصنف پروفیسر وریندر گپتا کہتے ہیں `ویسا ہی طریقہ استعمال کر کے دوسرے مریض کی بیماری کو عارضی طور پر ختم کر کے ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ برلن والے مریض کی شفایابی کوئی خلافِ معمول بات نہیں تھی اور علاج کے طریقے نے ان دونوں لوگوں کو ایچ آئی وی سے نجات دلوائی۔`

تحقیق میں شامل امپیریئل کالج لندن کے پروفیسر ایڈورڈو اولاواریا کہتے ہیں کہ سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کی کامیابی نے `طویل انتظار کے بعد ایچ آئی وی ایڈز کے علاج کی تلاش میں امید` دکھائی ہے۔

یہ کیسے کام کرتا ہے؟
ایچ آئی وی 1، ایچ آئی وی وائرس کی وہ قسم ہے جو دنیا بھر میں پائی جاتی ہے۔ یہ خلیوں میں داخل ہونے کے لیے سی سی آر 5 نامی رسیپٹر کا استعمال کرتا ہے۔

تاہم لوگوں کی بہت کم تعداد ایسی ہے جن پر ایچ آئی وی اثر انداز نہیں ہوتا۔ ایسے افراد کے جسم میں سی سی آر 5 رسیپٹر کی دو تبدیل شدہ رسیپٹرز ہوتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس جسم کے خلیوں میں داخل نہیں ہو سکتا جنھیں وہ عموماً نشانہ بناتا ہے

لندن والے مریض کو ایسی مخصوص جینیاتی تبدیلی کے حامل ڈونر سے لیے گئے سٹیم سیل لگائے گئے جس کی وجہ سے ان میں بھی ایچ آئی وی کے خلاف مدافعت پیدا ہو گئی۔

لیکن ایچ آئی وی والے خلیات اس کے باوجود مریض کے جسم میں بےحس حالت میں موجود ہو سکتے ہیں۔

برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے شکار لوگوں میں جینیاتی تھراپی کے ذریعے سے سی سی آر 5 رسیپٹر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے کیونکہ اب ان کو پتا چل گیا ہے کہ برلن کے مریض کی صحتیابی کوئی انوکھا کیس نہیں تھا۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ریسرچ کے پروفیسر اور امپیریئل کالج لندن میں وبائی بیماریوں پر کام کرنے والے گراہم کُک کے مطابق نتائج حوصلہ افزا تھے۔

`اگر ہم اس بات کو سمجھ سکیں کہ کیوں کچھ مریضوں کو اس طریقہ کار سے افاقہ ہوتا ہے اور کچھ کو نہیں تو ہم ایچ آئی وی کا علاج کرنے کے اصل مقصد کے قریب پہنچ جائیں گے۔`

تاہم ان کا کہنا تھا کہ `فی الحال اس طریقہ کار کو ایسے مریضوں پر استعمال کرنے میں بہت زیادہ خطرہ ہے جو ویسے ٹھیک ہیں۔`

’ممکنہ طور پر اہم‘
کارڈف یونیورسٹی میں اعزازی کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر اینڈریو فریڈمین کہتے ہیں کہ یہ `دلچسپ اور ممکنہ طور پر اہم رپورٹ` تھی۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ مریض کا دوبارہ مکمل طور پر چیک اپ کرنا ضروری ہے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ وائرس پھر سے اثر انداز نہیں ہو رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی دوران دھیان ایچ آئی وی کا فوری طور پر علاج کرنے پر ہونا چاہیے اور مریض کی عمر بھر کے لیے کومبینیشن اینٹی ریٹرووائرل تھراپی (سی اے آر ٹی) کرنا شروع کرنی چاہیے۔

ایسا کرنے سے وائرس اور لوگوں میں منتقل نہیں ہو سکے گا اور ایچ آئی وی کا شکار لوگوں کو جینے کا موقع فراہم کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.