32

سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم کے جذبے’ٹھنڈے‘ پڑ رہے ہیں؟

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے حکومتی تعاون سے قائم کیے گئے جرگے سے اتوار کی نشست کے بعد مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن ملکی میڈیا کے بیشتر اداروں میں یہ خبر سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب پی ٹی ایم پر نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ تنظیم کی اب سوشل میڈیا پر بھی موجودگی کم ہوتی نظر آرہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تنظیم کے رہنما منظور پشتین نے مذاکرات کے ختم ہونے کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کہ چونکہ جرگے کے ساتھ تنظیم کے مختلف نشستوں میں ان کو یہ بتایا گیا کہ وہ وفاقی حکومت سے ایک نوٹفیکیشن جاری کروائیں جس میں جرگے کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

’مختلف نشستوں میں ہم یہی کہہ رہے تھے کہ جرگے کو فیصلہ کرنے کا اختیار اگر نہیں ہے تو پھر ان کے ساتھ بیٹھنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں اس لیے پی ٹی ایم نے مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جرگے کا ایک اصول ہوتا ہے جس میں جرگے کو فریقین کی طرف سے مکمل اختیار دیا جاتا ہے۔‘

یاد رہے کہ یہ جرگہ حکومتی تعاون سے بنا تھا جس میں قبائلی ایجنسیوں جو اب ضلع کہلاتے ہیں، سے دو، دو ارکان اور حکومت کی طرف سے بھی نمائندگان موجود تھے تاکہ پی ٹی ایم کے مطالبات پر نظر ثانی کر کے اس کا کوئی حل نکالا جا سکے۔

منظور پشتین نے کہا کہ دوسری وجہ جرگے کی مخلتف نشستوں میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ تنظیم کے کسی کارکن یا سپورٹر کو حکومتی اداروں کی طرف سے تنگ نہیں کیا جائے گا لیکن اس کے با وجود پی ٹی ایم کے کارکنان کو ملک کے دیگر شہروں میں تنگ کیا گیا۔

’حال ہی میں ڈی آئی خان سے ایک کارکن حیات پریغال گھر سے لاپتہ کیا گیا ہے لیکن جرگے نے ہمیں بتایا کہ انھوں نے ریاستی اداروں سے بات کی ہے اور وہ کہتے ہیں لاپتہ شخص ان کے پاس نہیں ہے۔‘

پی ٹی ایم کی حکومتی جرگے کے ساتھ کئی مہینوں سے نشستیں ہو رہی تھی جس کو پاکستان کے بیشتر میڈیا کے اداروں میں کوریج نہ مل سکی اور پی ٹی ایم کی زیادہ موجودگی سوشل میڈیا پر رہی۔

تاہم پی ٹی ایم پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کی کارکنان کی سوشل میڈیا پر موجودگی کم ہوتی نظر آرہی ہے جو پہلے بہت زیادہ تھی۔

تنظیم کی کور کیمٹی کے رکن سید عالم محسود سے جب سوشل میڈیا پر تنظیم کی سر گرمیاں کم ہونے کی وجہ پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ رزمک جلسے کے ملتوی ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر موجودگی تھوڑی کم نظر آرہی ہے لیکن اب پی ٹی ایم جلسے اور جلوس دوبارہ شروع کریں گے اور امید ہے سوشل میڈیا پر فعالیت زیادہ ہوجائی گی۔

تاہم منظور پشتین نے اس سوال کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ جب تنظیم کی سرگرمیاں ہوں گی تو سوشل میڈیا پر موجودگی زیادہ ہوگی۔

’اب چونکہ سرگرمیاں رک گئی ہے اس لیے موجودگی کم نظر آرہی ہوگی لیکن اب جلد ہی ہم جلسوں کا اعلان کریں گے۔‘

پشاور میں پی ٹی ایم پر نظر رکھنے والا قبائلی صحافی رسول داوڑ مخلتف نظریہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی ایم کے کارکنان سوشل میڈیا پر سرگرمیاں کر رہے ہیں لیکن ان کے مخلتف پیجز بند ہوتے جارہے ہیں تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیجز کون بند کر رہا ہے۔

بیرون ملک مقیم پی ٹی ایم کا ایک سرگرم سوشل میڈیا کارکن نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ زیادہ تر پی ٹی ایم کے سرگرم لوگ جیسا کہ محسن داوڑ، علی وزیر،اور عبداللہ ننگیال انتخابات کی مہم میں مصروف ہیں اور وہ اسی کو پی ٹی ایم کی سوشل میڈیا پر موجودگی کم ہونے کی وجہ گردانتے ہے۔

’چونکہ پی ٹی ایم کے سرگردہ رہنما جیسا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر انتخابی کمپین میں مصروف ہیں جن کے لاکھوں فالورز ہے۔ لیکن اب یہ لوگ سوشل میڈیا پر کم نظر آرہے ہیں اس لیے سرگرمیاں متاثر ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پی ٹی ایم مختلف اضلاع میں تنظیم سازی میں مصروف ہے جس کی وجہ سے تنظیم کے سردہ لوگ سوشل میڈیا پر کم نظر آتے ہیں۔

سوشل میڈیا کارکن عاطف توقیر جو شروع دن سے پی ٹی ایم کے کے حماتیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، انھوں نے بھی اپنے ایک بلاگ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ پی ٹی ایم اپنے بیانیے کو جس جذبے سے سامنے لائے تھے اب اس طرح دکھائی نہیں دیتا۔

’حیات پریغال کی گمشدگی، کیا پشتون جذبات ٹھنڈے پڑ گئے؟‘ کے نام سے اپنے بلاگ میں وہ لکھتے ہے کہ حالیہ کچھ عرصے سے یہ دیکھا گیا ہے کہ پی ٹی ایم کا بیانیہ بہت حد تک نرم پڑتا نظر آرہا ہے۔

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ایک تحریک جس کی بنیاد دستوری ہو اور جس کا مقصد واضح ہو، اس کے پاس سمجھوتے کے لیے زیادہ جگہ نہیں ہوتی اور جب جگہ نکالی جاتی ہے، تو تحریک کا مرکز متاثر ہوجاتا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’اس سے قبل بھی بد قسمتی یہی رہی کہ بہت سے تحریکیں اٹھیں مگر بعد میں اس میں موجود رہنماؤں کی توجہ اپنے بنیادی نکتے سے ہٹ گئی اور تحریکیں رفتہ رفتہ دم توڑ گئیں۔ـ‘

بی بی سی نے جرگے کے ایک رکن سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کہا کہ حکومت سے بات کرکے اس کے بعد وہ مذاکرات ختم کرنے پر موقف دے سکیں گے۔

کہانی کو شیئر کریں شیئرنگ کے بارے میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.