24

سوات میں دو روزہ سائنس میلے میں ہزاروں طالب علم شریک

سوات میں گراسی گراونڈ پر دو روزہ سائنس میلے کا آغاز 17 اپریل کو ہوا جس کا انعقاد سوات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور پاکستان الائنس فار میتھ اند سائنس نے ادھیانہ اور الف اعلان جیسی تنظیموں کے تعاون سے کیا ہے۔

میلے کا افتتاح کمشنر مالاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الإسلام نے ڈپٹی کمشنر شاہد محمود اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نواب علی کے ساتھ مل کر کیا۔

میلے کے پہلے دن ڈسٹرکٹ سوات سے تقریباً 125 سے زائد سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے 7 ہزار کے قریب طالب علموں نے شرکت کی جن میں ایک بڑی تعداد لڑکیوں کی تھی اس کے علاوہ اساتذ اور بیشتر سائنسی ماہرین نے بھی میلہ میں شرکت کی اور طلبا کے تیار کردہ سائنسی ماڈلز کی نمائش میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

ان ماڈلز میں روبوٹکس، ہائیڈرولکس، الیکٹرک سرکٹ اور آسان میتھ میٹکس جیسی چیزیں شامل تھیں۔

مقامی طلبا کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی سائنسی تنظیموں نے بھی اپنے سائنسی ماڈلز کے ساتھ شرکت کی۔

اس میلے میں پہلے دن کچھ قومی اور بین الاقوامی ریکارڈ بھی بنائے گئے جن میں نیشنل اکیڈیمی آف ینگ سائنٹسٹ کی زیر سرپرستی پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ 1036 طلبا نے بیک وقت سٹرابیری سے ڈی این نکال کر قومی ریکارڈ قائم کیا۔ جبکہ 955 طلبا نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر ڈی این اے کی شکل بھی تشکیل دیا۔ یہ ریکارڈ پاکستان بک آف ریکارڈز میں درج کیے جائیں گے

منتظمین نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میلے کا مقصد سوات اور گرد و نواح کے علاقوں کے بچوں میں سائنس اور نئی تحقیق کے جذبے کو ابھارنا اور سائنس کے میدان میں ان کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ جس کے لیے مختلف سکولوں اور تنظیموں نے خصوصی سٹالز لگائے ہیں۔ اس میلے کا مقصد یہ ہے کہ بچوں کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ کر کے مستقبل کے سائنس دانوں کے لئے راستہ ہموار کیا جائے۔

وادی سوات کا علاقہ سال دو ہزار نو کے بعد سے انتہا پسندی اور تشدد کے نشانے پر تھا اور یہاں لڑکیوں کے لیے تعلیم کے مواقع سکڑ گئے تھے۔ اب حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ لڑکے اور لڑکیاں اب دوبارہ سکولوں میں جا رہے ہیں اور انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبا کو سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں وہ اعلی معیاری تعلیم کو حاصل اور اپنی شخصیت کا حصہ بنا سکیں۔

منتظین کا کہنا ہے کہ کمرہ جماعت میں ریاضی اور سائنس پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے جس سے نوجوان اس شعبے میں بڑے پیمانے پر میسر مواقعوں سے فائدہ اٹھا کر اپنا اور قوم ملک کا مستقل سنوارنے میں کلیدی کردار اد کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں