77

’سنہری چوٹی‘ سر کرنے والی کم عمر پاکستانی کوہ پیما کی نظر اب ماؤنٹ ایورسٹ پر

دس سالہ سلینا خواجہ ہاتھ میں اپنا پسندیدہ ناشتہ، آم کا مِلک شیک اور مکھن لگا توس، لیے ہمیں باورچی خانے سے باہر آتے ہوئے ملیں۔ انھوں نے حال ہی میں سات ہزار میٹر سے بلند چوٹی سر کی ہے اور آج کل وہ اپنی تھکان دور کرنے اور طاقت بحال کرنے میں مصروف ہیں۔

سلینا کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے ہے۔ ان کا گھر ایک بڑے جِم سے متصل ہے جس کے منتظم ان کے والد یوسف خواجہ ہیں۔

سلینا نے جولائی 2019 میں 7027 میٹر بلند سپانٹک نامی چوٹی سر کی ہے جسے سنہری چوٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سپانٹک کو سر کرنے کے بعد وہ سات ہزار میٹر بلند پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے والی دنیا کی سب سے کم عمر شخصیت بن چکی ہیں۔

سلینا جس گھر میں رہتی ہیں اس کی ایک دیوار شیشے کی ہے جہاں سے ایبٹ آباد شہر کے اطراف واقع پہاڑ دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایبٹ آباد چاروں اطراف سے پہاڑوں میں گِھرا ہوا ہے اور اس شہر کا قدرتی حسن سیاحوں کی کثیر تعداد کو اپنی جانب مائل کرتا ہے۔

سلینا نے شیشے سے نظر آنے والے سب سے اونچے پہاڑ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ‘وہ میرن جانی چوٹی ہے۔ میں اور میرے والد تفریح کی غرض سے اس پہاڑ پر جاتے تھے اور وہاں سے کوہ پیمائی کے شوق نے مجھ میں جنم لیا۔’

سلینا کے والد یوسف خواجہ پیشے کے اعتبار سے فٹنس انسٹرکٹر ہیں اور لوگوں کو جسمانی طور پر صحت مند اور چاق و چوبند رکھنے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

یوسف خواجہ کے مطابق ‘سلینا بچپن ہی سے جسمانی طور پر فِٹ ہے تاہم مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کس کھیل کو پسند کرے گی۔ جب میں اسے پہلی مرتبہ ٹریکنگ کے لیے پہاڑوں میں لے گیا تو اِس کی کارکردگی میری امیدوں سے کافی بہتر تھی۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ جسمانی طور پر اتنی فِٹ ہے کہ بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو بھی سر کر سکتی ہے۔’

سلینا خواجہ ایبٹ آباد کی رہائشی ہیں
میرن جانی چوٹی پر ہونے والی ٹریننگ کے علاوہ سلینا نے کوہ پیمائی کا بنیادی کورس بھی کر رکھا ہے۔ سلینا نے بتایا کوہ پیمائی کے لیے اپنے آپ کو فِٹ رکھنے کے لیے مختلف نوعیت کی ٹریننگ بھی کرتی ہیں۔ ‘جِم میں میں ٹریڈمل، سائیکل، ایلیپٹیکل اور سٹیپر نامی مشینوں پر ورزش کرتی ہوں۔ جو کام (کوہ پیمائی) میں کرتی ہوں اس میں کارڈیو کی بہت اہمیت ہے، مگر میں طاقت حاصل کرنے کی ٹریننگ بھی کرتی ہوں۔’

وہ بی بی سی کی ٹیم کو اپنے گھر کے نزدیک واقع ہائکنگ ٹریل پر بھی لے کر گئیں۔ ہائکنگ کرتے ہوئے انھوں نے ان خطرات کے بارے میں بتایا جو کوہ پیماؤں کو درپیش ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ‘آپ کو برفانی تودوں اور پہاڑ میں موجود دراڑوں پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔ آپ کسی طوفان کی زد میں بھی آ سکتے ہیں جو آپ کے کوہ پیمائی کے سامان کو اڑا کر دور پھینک سکتے ہیں۔’

پہاڑوں پر کوہ پیمائی سے متعلق اپنی پرلطف یادوں کو کنگھالتے ہوئے سلینا نے بتایا کہ ‘جب ہم کیمپ ون پر تھے جو تیز ہوا کے طوفان نے ہمیں آن گھیرا جس کے باعث میری جیکٹ اور ہاتھوں کے دستانے اڑ گئے۔ ہم نے اگلے پڑاؤ کے لیے رات ایک بجے نکلنا تھا اور سردی کے باعث میرے ہاتھ جم رہے تھے۔

’ایک موقعے پر مجھے مزید سفر جاری نہ رکھنے کا خیال آیا لیکن پھر میرے والد نے کہا کہ چند ہی گھنٹوں میں سورج طلوع ہو جائے گا اور میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔’

انھوں نے مزید بتایا کہ اب وہ ایسی باتوں پر پریشان نہیں ہوتیں اور مستقبل میں ایسے ایڈونچرز کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

‘جب ہم بیس کیمپ سے پہاڑوں کی چوٹیوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو برف ہی برف نظر آتی ہے۔ یہ بہت اچھا منظر ہوتا ہے، خاص کر جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے تو پہاڑیاں ہلکی سنہری نظر آتی ہیں۔’

اپنے ناقدین کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ‘چند لوگوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کی سرگرمیاں (کوہ پیمائی) کرنے کے لیے میری عمر کافی کم ہے۔ وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ بڑا ہونے کا انتظار کریں۔ میرا جواب ہوتا تھا کہ میں مکمل طور پر فِٹ ہوں اور میں نے ضروری ٹریننگ بھی حاصل کر رکھی اور میں یہ سب کر سکتی ہوں۔’

7000 میٹر بلند پہاڑ کو سر کرنے والی سب سے کم عمر شخصیت بننے کے بعد سلینا مستقبل میں بھی اس کام کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ آئندہ برس ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے والے سب سے کم عمر کوہ پیما امریکہ سے تعلق رکھنے والے جارڈن رومیرو ہیں جنھوں نے 13 سال اور دس ماہ کی عمر میں یہ کام سرانجام دیا تھا۔

ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے والی سب سے کم عمر خاتون کوہ پیما کا تعلق انڈیا سے ہے۔ ملاواتھ پرنا نے 13 برس اور گیارہ ماہ کی عمر میں یہ کام کیا تھا۔

سنہ 2020 میں سلینا کی عمر فقط 11 برس ہو گی اور ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے وہ ان دونوں کم عمر کوہ پیماؤں کا ریکارڈ توڑ سکتی ہیں۔

یوسف خواجہ کی اپنی بیٹی سے کافی امیدیں وابستہ ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ سلینا کا آئندہ برس ان کا ماؤنٹ ایورسٹ جانے کا منصوبہ مطلوبہ فنڈز کے بندوبست سے مشروط ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.