29

سنگاپور سے شمالی کوریا کو غیر قانونی طور پر لگژری اشیا کی فروخت: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی افشاں ہونے والی رپورٹ کے مسودے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سنگاپور کی کمپنیوں نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمالی کوریا کو پر تعیش فروخت کی ہیں۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمع کروائی گئی ہے اور اسے آئندہ ہفتے تک اسے شائع کیا جائے گا۔

سنگاپور کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں سے آگاہ ہیں اور انھوں نے ان اطلاعات کی تصدیق کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اقوام متحدہ اور سنگاپور دونوں نے شمالی کوریا کو پر تعیش اشیا کی فروخت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ دو برسوس کے دوران پیانگ یانگ کی جانب سے میزائل اور جوہری تجربوں کے بعد عالمی دنیا نے شمالی کوریا پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔

دوسری جانب غیر متوقع طور پر شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین مذاکرات آئندہ سال مئی میں ہو رہے ہیں۔

اقوا متحدہ کی افشاں ہونے والی رپورٹ میں سنگاپور سے کاروبار کرنے والے دو کمپنیوں کے نام ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کمپنیوں نے جولائی 2017 تک شمالی کوریا کو متعدد پرتعیش اشیا فروخت کی ہیں جن میں وائن اور سپرٹس بھی شامل ہیں۔ 2006 سے اقوام متحدہ نے شمالی کوریا کو پرتعیش اشیا کی فروخت پر پابندی عائد کی تھی اور سنگاپور کے اپنے قانون کے تحت بھی شمالی کوریا کو یہ اشیا فروخت نہیں کی جا سکتی ہیں۔

دونوں کمپنیوں او سی این اور ٹی سپیشلسٹ نے اپنے پر عائد الزامات کو مسترد کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2011 سے 2014 کے درمیان ‘بیس لاکھ ڈالر’ مالیت اشیا شمالی کوریا کو فروخت کی گئیں ہیں۔ یہ رقم شمالی کوریا کے بینک ڈیڈونگ کریڈٹ بینک سے کمپنی کے سنگاپور کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی ہے

حکومت کا کہنا ہے کہ سنگاپور نے اپنے مالیاتی اداروں پر شمالی کوریا سے تجارتی لین دین میں معاونت کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

سنگاپور کی کمپنی ‘ٹی سپیشلسٹ’ نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ فنڈ شمالی کوریا کے بجائے ہانگ کانگ میں رجسرڈ کمپنی سے آئے ہیں۔

ان کمپنیوں کے وکیل نے تصدیق کی ہے کہ سنگاپور کے حکام ان کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں لیکن انھوں نے اصرار کیا کہ شمالی کوریا کی کسی کمپنی کے ساتھ اُن کے مالی رابطے یا تعلق نہیں ہے۔

کمپنیوں کے وکیل نے تصدیق کہ کہ ان کے کلائنٹس نے ‘اقوام متحدہ کی پابندی سے قبل شمالی کوریا کے ساتھ کاروباری لین دین کیا ہے۔’

وکیل کا کہنا ہے کہ کمپنیوں نے شمالی کوریا میں اپنا ‘عمل دخل کم کر لیا ہے’ لیکن ‘ان چیزوں میں کچھ وقت لگتا ہے۔’

گذشتہ سال نومبر میں سنگاپور نے شمالی کوریا سے ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن اُس سے پہلے کچھ تجارت ہوتی تھی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ او سی این اور ٹی سپیشلسٹ کے معاملے سنگاپور کے مالیاتی نظام کے ذریعے ہی رقم آئی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس بات کی نشاہدی بھی کی گئی ہے کہ جتنی آسانی سے کمپنیاں شمالی کوریا کے ساتھ مبینہ طور پر کاروبار کر رہی ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سنگاپور جیسے ملک کے جدید مالیاتی نظام میں موجود نقائص کو تلاش کر کے اُس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں