22

’سنجو میں دیانت داری کے علاوہ سب کچھ ہے‘

بالی وڈ اداکار سنجے دت انڈیا کے سب سے زیادہ متنازع فلمی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کی شراب نوشی اور منشیات کی لت، ان کے مبینہ معاشقے اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی کے ایک معاملے میں ان کا ملوث ہونا اور ان کے جیل جانے کی باتیں بھرپور انداز میں پیش کی گئی ہیں۔ لیکن ابھی حال ہی میں ریلیز ہونے والی ان پر مبنی ایک فلم پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ یہ ان کے ماضی پر ’پردہ ڈالنے‘ کی کوشش ہے۔ اس بارے میں ارپنا الیوریکی تحریر پیش ہے۔

ریلیز کے ایک ہفتے بعد فلم ’سنجو‘ انڈیا کی کامیاب ترین فلموں میں شمار کی جانے لگی ہے۔ لیکن فلم ناقدین نے اس فلم کو ’بددیانت‘ اور ’گمراہ کن‘ قرار دیا ہے جبکہ جنھوں نے یہ فلم دیکھی ہے ان میں سے بعض نے اسے ’مدح سرائی‘ کہا ہے جبکہ ٹوئٹر پر اسے ’رابطۂ عامہ کی مہم‘ کہا گيا ہے۔

رنبیر کپور کے سنجے دت کا کردار ادا کرنے پر زبردست تعریف کی گئی ہے کہ انھوں نے ان کے کردار میں ڈوب کر اداکاری کی ہے جبکہ سنجے دت کی اپنے والد کے ساتھ جذباتی رشتے کی پیشکش کے لیے فلم کی تعریف کی گئی ہے۔ فلم کا تجزیہ کرنے والوں کا خیال ہے کہ ’یہ فلم دیانت داری کے علاوہ سب کچھ ہے۔‘

جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ یہ فلم سٹار کی زندگی کی ’دھلی دھلائی‘ پیش کش ہے اور یہ ’ایک فلم ساز دوست کی جانب سے قیمتی اور محبت بھرا تحفہ ہے۔‘

ایک تیسرا نظریہ یہ ہے کہ فلم سنجے دت کی زندگی کے مزید اندر اترنے کا موقع فراہم کرتی ہے کیونکہ جب فلم ختم ہوتی ہے اس وقت بھی ’سنجو ایک سوالیہ نشان ہوتا ہے۔‘

سنجو، سنجے دت کی عرفیت ہے اور فلم کا یہ نام بتاتا ہے کہ یہ ان کی ہمدردانہ کہانی ہے۔ اسے محبت اور ہمدردی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے 58 سالہ سنجے دت کی ایک شبیہ ابھرتی ہے کہ وہ اپنی غلط پسند کے شکار رہے ہیں۔
سنجے دت بالی وڈ کے دو معروف محبوب فنکاروں سنیل دت اور نرگس کی تین اولادوں میں سب سے بڑے ہیں۔ انھوں نے سنہ 1981 میں اپنا فلمی کریئر شروع کرنے کے بعد 100 سے زیادہ فلموں میں اداکاری کی ہے جس میں رومانس سے لے کے ایکشن اور مزاحیہ فلمیں شامل ہیں۔

فلم پہلے ہی یہ واضح کر دیتی ہے کہ یہ سنجے دت کا اپنا مطمع نظر ہے۔ یہ ایک ایسے سوانح نگار کی تلاش کے ساتھ شروع ہوتی ہو جو ان کی کہانی کے ساتھ انصاف کر سکے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ میڈیا نے ان کی غلط ترجمانی کی ہے اور فلم میں میڈیا ہی ’ولن‘ کے طور پر ابھرتا ہے۔

فلم سنجے دت کی پہلی فلم سے قبل کے دور سے شروع ہوتی ہے جب ایک 22 سالہ نوجوان اپنے والد کی بڑی امیدوں پر پورا اترنے کی جدوجہد کرتا نظر آتا ہے اور اس کی ماں کو کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔ جب تک ان کی ماں کا انتقال ہوتا ہے وہ منشیات کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ انھوں نے سنہ 2017 میں ایک عام خطاب میں کہا تھا کہ ’دنیا میں کون ایسا نشہ ہے جس کا میں نے استعمال نہ کیا ہو۔‘

پہلے گھنٹے کے دوران فلم میں اپنے کیے پر کوئی پشیمانی نہیں ہے۔ اس میں نشے میں دھت، وہمی سنجے دت زندگی میں لڑکھڑاتا نظر آتا ہے جس نے اپنے والد کو مایوس کیا ہے اور اپنی گرل فرینڈ کا دل توڑا ہے۔ وہ ہسپتال میں پڑی اپنی ماں کے کمرے میں ہیروئن لیتا ہے کہ اس کی ماں مرنے سے قبل تھوڑی دیر کے لیے ہوش میں آ جاتی ہے۔

باقی فلم میں سنجے دت کے خلاف مجرمانہ مقدمات چلتے ہیں۔ سنہ 2006 میں انھیں 1993 کے ممبئی دھماکے میں ملوث ہونے اور ہتھیار رکھنے کے جرم میں سزا ہوتی ہے۔ اس واقعے میں 257 افراد ہلاک اور 713 زخمی ہوئے تھے۔

انھوں نے ہتھیار بم دھماکہ کرنے والوں سے خریدے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار انھیں 1993 کے ہندو مسلم فرقہ وارانہ فسادات میں اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے ضروری تھے۔ یہ ہتھیار مبینہ طور پر دھماکے میں استعمال ہونے والے سامان کا حصہ تھے لیکن سنجے دت کو سازش کے تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔

وہ سنہ 2016 میں جیل میں تین سال گزارنے کے بعد رہا ہوئے۔ ان کے جلدی رہا ہونے پر بھی شور شرابہ ہوا اور ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انھیں سٹار ہونے کی وجہ سے بلا وجہ پرول دیا جاتا رہا ہے۔

فلم میں ان حقائق کو پیش کیا گیا ہے لیکن سنجے دت (اور بالی وڈ) کے مافیا کے ساتھ مبینہ رابطے پر ملمع سازی کی گئی ہے جیسے سنہ 2001 میں ان کا ایک آڈیو ٹیپ سامنے آیا تھا جس میں وہ مبینہ طور پر پاکستان میں رہنے والے مافیا چھوٹا شکیل سے بات کر رہے تھے۔

فلم میں ان پہلوؤں پر بات نہیں کی گئی ہے۔ ایک ریویو کے مطابق 1993 کے ممبئی بم دھماکوں پر صرف طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے۔ ناقدین نے میڈیا کو ولن بنائے جانے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ایک ناقد نے میڈیا کے ناقابل معافی ہونے کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا: ’اس نکتے پر مسلسل زور دیا جاتا رہا کہ اگر میڈیا زیادہ ذمہ دار ہوتا تو سنجے دت کو ان مشکلات سے نہیں گزرنا پڑتا جس سے وہ گزرے۔‘

ایک بائیوپک کے طور پر بھی فلم میں بہت کچھ نظرانداز کیا گيا ہے۔ جیسے ان کی تین میں سے دو شادیوں کا ذکر، ان کے ایک بچے کا ذکر، اپنی بہن کے ساتھ ان کے کشید رشتے کا ذکر اور اپنی ساتھی اداکارہ کے ساتھ ان کے معاشقے کا ذکر وغیرہ۔

فلم کے ہدایت کار راج کمار ہیرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب آپ کسی شخص کی زندگی کو ڈھائی گھنٹے میں پیش کرنا چاہتے ہیں تو آپ مناسب چیزوں کا انتخاب کرتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی فلم مہینوں کی تحقیق اور انٹرویوز پر منبی ہے۔ انھوں نے کہا: ’میں اس پولیس آفیسر سے ملا جنھوں نے اسے گرفتار کیا تھا۔ میں ان تمام وکیلوں سے ملا جنھوں نے ان مقدمہ لڑا تھا۔ میں تقریباً 40-50 افراد سے ملا ہوں گا اور ان سے کہانی سن کر پھر یہ کہانی تیار کی۔‘

زیادہ تر لوگوں نے اس فلم کا خیر مقدم کیا ہے اور اس خیال سے مطمئن ہیں کہ یہ کہانی کا ایک پہلو ہے۔ لیکن اس سے ایک ناگزیر سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا بالی وڈ کسی اپنے شخص پر صحیح اور غیر جانبدارانہ بائیوپک بنا سکتا ہے؟‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.