42

سلمان خان کو سیاہ ہرن کے غیر قانونی شکار کے جرم میں پانچ سال قید

انڈیا کی ریاست راجستھان کی ایک عدالت نے نایاب سیاہ ہرنوں کے غیر قانونی شکار کے مقدمے میں معروف فلم اداکار سلمان خان کو مجرم قرار دییتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

سلمان خان کو دس ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے علاوہ سیف علی خان، تبو، سونالی بیندرے اور نیلم بھی ملزمان تھے تاہم ان سب کو بری کر دیا گیا ہے۔

سلمان خان کو دو نایاب ہرنوں کے شکار میں مجرم قرار دیا گیا ہے اور انھیں اب گرفتار کرکے جودھ پور کی سنٹرل جیل بھیجا جائے گا۔

اس مقدمے میں انھیں زیادہ سے زیادہ چھ برس قید کی سزا ہو سکتی تھی اور اس سزا کی استدعا سرکاری وکیل کی جانب سے بھی کی گئی تھی۔

تاہم سلمان خان کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے موکل کو تین برس سے کم سزا دی جائے کیونکہ اس صورت میں انھیں عدالت سے ہی ضمانت مل سکتی تھی تاہم پانچ برس سزا کی صورت میں انھیں ہر حالت میں جیل جانا ہو گا۔

نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ جس وقت سلمان خان کو مجرم قرار دیا گیا اس وقت عدالت میں سلمان کے ساتھ ان کی بہنیں کھڑی تھیں۔

سماعت کے موقع پر جودھ پور کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے باہر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ عدالت کے باہر لوگوں کے ہجوم اور میڈیا کو دور رکھنے کے لیے رکاوٹیں لگا دی گئی تھیں۔

ہرنوں کے شکار کا معاملہ 1998 کا ہے۔ سلمان خان، سیف علی خان، تبو، سونالی اور نیلم فلم ‘ہم ساتھ ساتھ ہیں’ کی شوٹنگ کے لیے جودھ پور میں تھے۔ سلمان خان پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک گاؤں کے نزدیک نایاب نسل کے دو چنکارا ہرنوں کا شکار کیا۔

شکار کے وقت مبینہ طور پر دوسرے اداکار بھی ان کے ساتھ تھے۔ 20 برس پرانے اس مقدمے کا فیصلہ 28 مارچ کو محفوظ کیا گیا تھا۔

سلمان خان اسی کیس سے متعلق آرمز ایکٹ کے تحت ایک دیگر معاملے میں پانچ برس کی ‎سزا ہوئی تھی اور انھوں نے نے ایک ہفتہ جیل میں بھی گزارا تھا ۔ لیکن بعد میں راجستھان ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کر دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.