16

سعودی عرب تفریح کی صنعت پر 64 ارب ڈالر خرچ کرے گا

سعودی عرب نے کہا ہے کہ ملک میں تفریحی صنعت کی ترقی کے لیے آئندہ دس سال میں 64 ارب امریکی ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔

جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کا کہنا ہے رواں سال تقریباً 500 تقریبات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جن میں امریکی پاپ بینڈ مرون 5 اور کینیڈین پرفارمرز سرک ڈو سولیل کے پروگرامز بھی شامل ہیں۔

ملک کے پہلے اوپرا ہاؤس کی تعمیر دارالحکومت ریاض میں شروع ہو چکی ہے۔

یہ سرمایہ کاری سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے معاشی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام کا حصہ ہے جس کا آغاز دو سال قبل ہوا اور جسے وژن 2030 کا نام دیا گیا ہے۔

32 سالہ ولی عہد ملکی معیشت کا انحصار تیل کے ذخائر پر کم کرتے ہوئے متنوع معیشت چاہتے ہیں، جس میں گھرانوں کی جانب سے ثقافتی اور تفریحی پروگراموں میں خرچ بڑھانا بھی شامل ہے۔

دسمبر میں حکومت نے کمرشل سینیما گھروں پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔

جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ احمد بن عقیل الخطیب کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں، سرمایہ کار کام کی تیاری کے لیے ملک سے باہر جاتے تھے، اور اس کے بعد سعودی عرب واپس آکر اس کی نمائش کرتے تھے۔ آج تبدیلی آرہی ہے اور انٹرٹینمنٹ سے متعلقہ ہر کام یہیں ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’خدا نے چاہا تو آپ 2030 میں اصل تبدیلی دیکھیں گے۔‘

ملک میں سیاحت کے فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے دارالحکومت ریاض کے قریب تقریباً لاس ویگس کے برابر کے ایک بڑے تفریحی شہر کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں نے سعودی عرب نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جو ملک میں اپنی نوعیت کے پہلے تھے جن میں گذشتہ ماہ خواتین کو سٹیڈیمز میں فٹبال میچ دیکھنے کی اجازت اور جون سے خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کا اعلان شامل ہیں۔

گذشتہ سالہ ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب ایک بار پھر ’اعتدال پسند اسلام کا ملک بنے گا جہاں تمام مذاہب، ثقافتوں اور لوگوں کے لیے راہیں کھلی ہوں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ستر فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے اور انھیں ایسی ’زندگی دینا چاہتے ہیں جس میں ہمارا مذہب رواداری، اور ہماری رحم دلی روایات کی ترجمانی کرے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں