56

سعودی شہزادے صرف جھوٹی اور کڑوی باتیں کرتے ہیں: ایران

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار تیار کیے تو سعودی عرب بھی ایٹمی ہتھیار بنائے گا جبکہ ایران نے سعودی شہزادی کے بیان کو ’بے معنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف جھوٹی اور کڑوی باتیں کرتے ہیں۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار کیے تو سعودی عرب بھی ایسے ہتھیار بنائے گا۔

واشنگٹن میں امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کو ایک انٹرویو میں سعودی ولی عہد نے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا عندیہ دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’سعودی عرب جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی بم بنایا تو تو ہم بھی جلد سے جلد ایسا کریں گے۔‘

ایران کی وزارتِ خارجہ نے سعودی شہزادی کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’بے معنی‘ قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سعودی شہزادے کے بارے میں کہا کہ ’وہ ایک غیر حقیقی انسان ہیں اور بلا سوچے سمجھے بڑا الفاظ بولنے کو سیاست سمجھتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘سعودی شہزادے صرف جھوٹی اور کڑوی باتیں کرتے ہیں’

یاد رہے کہ سعودی ولی عہد کا یہ انٹرویو اتوار کو نشر کیا جائے گا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اب دونوں امریکہ کے دورے پر ہیں، جہاں وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کریں گے۔

یاد رہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

محمد بن سلمان جو سعودی وزیر دفاع بھی ہیں نے گذشتہ سال کہا تھا کہ سعودی عرب اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ریاض اور تہران کے درمیان مستقبل میں کسی قسم کا تصادم ہوا تو وہ ایران میں لڑا جائے گا۔

اس بیان کے جواب میں ایران نے کہا تھا کہ ایران سعودی عرب کے شہروں کو نشانہ بنائے گا ماسوائے مکہ اور مدینہ کے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کے حق میں نہیں ہے۔ اس معاہدے کے بعد ایران پر لگنے والی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔

سعودی ولی عہد کے اصلاحات میں سویلین جوہری توانائی بھی شامل ہے تاکہ ملک کا تیل پر انحصار کم ہو سکے۔

اس سے قبل سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی پر امن مقاصد کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اس نے کبھی وضاحت نہیں کی کہ آیا وہ یورینیئم کی افژودگی بھی کرے گا یا نہیں۔

سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کی کابینہ نے اپنے جوہری توانائی کے پروگرام کی قومی پالیسی منظور کر لی ہے۔

سعودی عرب اپنے پہلے جوہری بجلی گھروں کے لیے معاہدوں کی تیاری کر رہا ہے۔

خبررساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ پالیسی جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے محدود کرنے، ریڈیائی فاضل مادے کو ٹھکانے لگانے کے بہترین اقدامات کرنے اور حفاظتی اقدامات پر زور دیتی ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب معدنی تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ تاہم وہ اب تھرمل بجلی کے بجائے بجلی پیدا کرنے کے متبادل ذرائع بھی تلاش کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.