141

سعودی تیل کی موخر ادائیگی پر فراہمی کا مطلب کیا ہے؟

پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو سالانہ تین ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے تیل کی فراہمی یکم جولائی 2019 سے شروع ہو جائے گی۔

یہ وہ تیل ہے جس کے لیے معاہدہ گزشتہ برس اکتوبر میں وزیراعظم عمران خان کے دورۂ سعودی عرب کے دوران ہوا تھا۔

اس معاہدے کے تحت پاکستان کو تین برس تک ماہانہ ساڑھے 27 کروڑ ڈالر مالیت کا تیل موخر ادائیگی کی سہولت کے ساتھ فراہم کیا جائے گا۔

تیل کی موخر ادائیگی پر فراہمی شروع کرنے کا اعلان ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب پاکستان کو مقامی سطح پر ڈالر کی قدر میں اضافے اور زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سامنا ہے۔

پاکستان نے اس سلسلے میں حال ہی میں عالمی مالیاتی ادارے سے چھ ارب ڈالر قرض کے معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔

اس صورتحال میں مشیرِ خزانہ کے اس اعلان کو مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس سے پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ کم ہو گا۔

کیا سعودی عرب کے ساتھ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے؟

یہ پہلا موقع نہیں کہ سعودی عرب نے پاکستان کو موخر ادائیگی کی شرط پر تیل دینے کی سہولت دی ہو۔ 1998 میں جب ایٹمی دھماکے کرنے پر امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں تو پاکستان شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا تھا۔

اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر پر اتنا شدید دباؤ تھا کہ حکومت نے نجی بنکوں سے ڈالر نکلوانے پر پابندی لگا دی تھی۔

اس صورتحال میں جب کوئی دوسرا ملک یا قرض دینے والا آئی ایم ایف جیسا ادارہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کی مالی مدد نہیں کر سکتا تھا، سعودی عرب پاکستان کی مدد کو آیا تھا۔

سعودی عرب نے اس وقت بھی پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ کا تیل ادھار دینا شروع کیا تھا۔

اس معاہدے کی کل مالیت کتنی ہے؟

اس معاہدے کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کو تین سال میں نو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کا تیل دینے کا معاہدہ کیا ہے تاہم اسی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تیل والی سہولت پر نظر ثانی ہو سکتی ہے، تو اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ رقم بڑھ بھی سکتی ہے۔

معاہدے کے موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مالیاتی امور کے ماہر محمد سہیل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ادائیگیوں کے توازن کے مسائل عموماً ایک دو برس میں حل ہو جاتے ہیں اس لیے پاکستان کو تین برس کے بعد اس ‘ادھار’ تیل کی ضرورت شاید نہ رہے۔ لیکن اگر یہ تیل مفت کا ہے تو اس معاہدے کے جاری رہنے میں کوئی حرج بھی نہیں۔

اس مدد کے بدلے میں پاکستان سے سعودی مطالبات کیا ہیں؟

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق عام زندگی کی طرح بین الاقوامی سفارتکاری میں بھی کچھ مفت نہیں ہوتا۔

2014 میں جب پاکستان کو سعودی عرب نے اسی طرح کے ایک معاہدے کے نتیجے میں ڈیڑھ ارب ڈالر دیے تھے تو اس وقت اس کے ساتھ کوئی مطالبہ یا شرط نہیں تھی لیکن کچھ ہفتوں بعد یمن کے لیے فوجیں بھیجنے کی درخواست موصول ہو گئی تھی۔

اس مرتبہ بھی معاہدے میں نہ کوئی شرط بتائی گئی ہے اور نہ ہی بظاہر کوئی مطالبہ سامنے آیا ہے۔ لیکن مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال میں کوئی مطالبہ سامنے آ بھی سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.