25

’سرکاری اشتہار میں ذاتی پبلسٹی ہوئی، شہباز شریف 55 لاکھ ادا کریں‘

پاکستان کی عدالتِ عظمٰی نے صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلٰی شہباز شریف کو ان کی حکومت کی جانب سے میڈیا میں دیے گئے ایک اشتہار پر خرچ ہونے والی 55 لاکھ کی رقم واپس قومی خزانے میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمعرات کو حکومتی اشتہارات یا پبلسٹی پر آنے والے خرچ کے حوالے سے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔

سماعت میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے استفسار پر شعبۂ اطلاعات پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اخباروں میں شہباز شریف کی تصویر کے ساتھ چھپنے والے ایک حالیہ اشتہار پر 55 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق صوبائی سیکریٹری اطلاعات نے عدالت کو بتایا کہ اس اشتہار کا مقصد عوام الناس کو ان ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے مطلع کرنا تھا جو حکومت نے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران مکمل کیے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا اشتہار جس سے وزیرِ اعلٰی کی ذاتی پبلسٹی ہوئی ہو اس کا بوجھ قومی خزانے پر نہیں ڈالا جانا چاہیے لہٰذا اس پر خرچ ہونے والی رقم قومی خزانے کو لوٹائی جائے۔

سماعت کے دوران شعبۂ اطلاعات پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ میڈیا میں حکومتی اشتہارات کی مہم پر ایک ماہ میں 120 ملین روپے خرچ کیے گئے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 28 فروری کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے ذرائع ابلاغ میں کی جانے والی اشتہاری مہمات کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ان سے ایک ہفتے کے وقت میں جواب طلب کیا تھا۔

اس نوٹس کا مقصد یہ جانچنا بھی تھا کہ کہیں صوبائی حکومتیں عوام کو مطلع کرنے کی آڑ میں اپنی ذاتی تشہیر تو نہیں کر رہی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں