16

سرد جنگ کے زمانے کی سوچ اب دقیانوسی باتیں ہیں: شی جن پنگ

چین کے صدر شی جن پنگ نے ‘سرد جنگ ذہنیت’ کے بارے میں تنبیہ کی ہے اور ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو فروغ دینے اور غیر ملکیوں کے لیے کھولنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

شی جن پنگ کی ‘باؤ فورم فار ایشا’ میں کی جانے والی تقریر کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ امریکہ سے جاری تجارتی جنگ کو کم کرنے کا اشارہ تھا۔

تقریر میں چینی صدر نے کہا کہ وہ گاڑیوں پر لگنے والی درآمدی ڈیوٹی کم کریں گے اور ساتھ ساتھ غیر ملکی کمپنیوں کے لیے چین میں سرمایہ کاری کرنے کے قوانین میں بھی آسانی پیدا کریں گے، لیکن ان تبدیلیوں کے بارے میں انھوں نے زیادہ تفصیلات نہیں دیں۔

اپنی تقریر میں شی جن پنگ نے امریکہ سے جاری لفظی جنگ کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر درآمدات پر محصولات عائد کر دی ہیں۔

لیکن انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ‘سب سے پہلے امریکہ’ کے نعرے کے جواب میں زیادہ کشادہ دلی کا مطالبہ کیا۔

‘انسانی معاشرہ اس وقت ایسے دور سے گزر دہا ہے جہاں ان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے دروازے کھولیں یا بند کریں، آگے بڑھیں یا پیچھے جائیں۔’

چینی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ‘صرف اپنی کمیونٹی پر توجہ دینا اور دوسروں کو نظر انداز کرنا بند راستے کی طرف جانے کے جیسا ہے۔ ہم کامیابیاں صرف اس وقت حاصل کر سکتے ہیں جب ہم دوسروں کے ساتھ مل کر کام کریں۔’

‘آج کے دور میں امن اور تعاون کی مدد سے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں اور سرد جنگ کے زمانے کی سوچ اب دقیانوسی باتیں ہیں۔’

صدر ٹرمپ کی جانب سے اس تقریر کا ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے دعوی کیا ہے کہ چین نے اپنے کیے گئے پہلے وعدے پورے نہیں کیے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ ملک کے معیشت غیر ملکیوں کے لیے کھولیں گے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں