71

سرحدی علاقے ’کتے کی قبر‘ پر سندھ اور بلوچستان میں تنازع

بلوچستان اور صوبہ سندھ کے درمیان سرحدی علاقے میں ’کتے کی قبر’ کی ملکیت پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

یہ علاقہ کھیر تھر کے پہاڑی سلسلے میں سندھ کے شہداد کوٹ اور بلوچستان کے خضدار ضلع کے درمیان واقعہ ہے، جو سطح سمندر سے 7500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

سندھ کے سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ’کتے کی قبر‘ کا علاقہ سندھ کا حصہ ہے اور رہے گا۔

’ہم چھوٹے صوبے کے دوست ضرور ہیں مگر سرحد پر کسی صورت میں سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

نثار کھوڑو نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں 1876 کا گزٹ بھی دکھایا اور بتایا کہ کتے کی قبر کا علاقہ تقریباً ڈھائی لاکھ ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے جو کھیرتھر کے پہاڑی سلسلے میں ٹھنڈا علاقہ ہے جو گورکھ ہل سٹیشن سے بھی بلند ہے۔

’کھیرتھر پہاڑی سلسلہ قمبر علی خان میں شامل ہے، بلوچی زبان میں لفظ کتے کی قبر نہیں استعمال ہوتا، یہ سندھی زبان کا لفظ ہے، نئی حلقہ بندیوں میں بھی اس کو سندھ کا ہی حصہ دکھایا گیا ہے۔‘

اس موقع پر قمبر شہزاد کوٹ ضلع سے پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیو کا کہنا تھا کہ انگریز دور حکومت سے کتے کی قبر سندھ کا علاقہ ہے، سروے آف پاکستان میں بھی اس کی شہادت موجود ہے لیکن اب اس پر بلوچستان کا دعویٰ سمجھ سے بالا تر ہے۔

سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت نے تین رکنی کمیٹی بنائی ہے۔ یہ کمیٹی اپنا کام کرے لیکن حکومت سندھ ایک انچ سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

اس سے قبل جمعیت علما اسلام کے مرکزی نائب امیر اور رکن قومی اسمبلی مولانا قمر الدین نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع خضدار کے علاقوں ڈھاڈارو اور کتے کی قبر کو صوبہ سندھ کے علاقے شہداد کوٹ میں شامل کرنا لوگوں کے احساسات اور جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

’مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے ضلع خصدار کے آباد اور وسائل سے مالا مال علاقے ڈھاڈارو اور کتے کی قبر کو صوبہ سندھ کے انتخابی حلقے شہداد کوٹ قمبر میں شامل کرنا اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن، سندھ حکومت کی کچھ شخصیات کے توسط سے یہ نہیں چاہتی کہ ملک کے تمام صوبے اپنے جغرافیائی حدود میں رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ برداردانہ تعلق قائم کریں۔‘

مولانا قمر الدین نے الزام عائد کیا کہ حکومت سندھ ایک سازش کے تحت بلوچستان کے سرحدی علاقوں جہاں جہاں قدرتی وسائل پائے جاتے ہیں کو بلوچستان سے الگ کرکے سندھ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ شہداد کوٹ قمبر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کا حلقہ انتخاب ہے۔

کتے کی قبر کے علاقے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں گیس کے ذخائر موجود ہیں، اس علاقے میں بلوچ قبائل کے ساتھ سندھی قبائل چُھٹا اور گھائنچا برادریاں بھی رہتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.