78

ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو دھچکا

انڈیا کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور جہاں دو ریاستوں مرکز میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست کا سامنا ہے وہیں ایک ریاست میں کانگریس اور اس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔

کانگریس پارٹی شمالی انڈیا کی ریاستوں راجستھان اور چھتیس گڑھ میں سبقت لیے ہوئے ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں اس سے قبل بی جے پی کی حکومت تھی۔

مدھیہ پردیش میں جہاں ابتدائی نتائج میں کانگریس سبقت لیے ہوئی تھی اب بی جے پی آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس ریاست میں ہار جیت کا فیصلہ بہت کم فرق سے ہونے کی توقع ہے۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق کانگریس کے بارے میں پہلے سے توقع کی جا رہی تھی کہ یہ ریاست راجستھان میں جیت جائے گی جبکہ ریاست مدھیہ پردیش میں بھی توقع تھی کہ یہاں کانٹے کا مقابلہ ہو گا لیکن ریاست چھتیس گڑھ کے انتخابات کے ابتدائی نتائج میں کانگریس کو حاصل ہونے والی واضح برتری نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ جنوبی ریاست تلنگانہ میں علاقائی جماعت ٹی آر ایس اور شمال مشرقی ریاست میزررم میں میزو نیشنل فرنٹ واضح طورپر اکثریت حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ان دونوں ریاستوں میں کانگریس دوسرے نمبر پر ہے۔

مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی 15 برس سے اقتدار میں تھی جبکہ راجستھان میں وہ پانچ برس قبل اقتدار میں آئی تھی۔ ان ریاستوں میں وزیراعظم نریندر مودی اور کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے انتخابی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔
بے جے پی کے اقتدار والی دو ریاستوں میں کانگریس کی ممکنہ جیت کو ملک کی قومی سیاست میں اس کی موثر واپسی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ آئندہ چند ماہ میں انڈیا میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور شمالی ریاستوں میں بی جے پی کی ممکنہ شکست پارٹی کے لیے بہت بڑا انتخابی دھچکا ہے۔

گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو بیشتر نشستیں شمالی ریاستوں سے ہی ملی تھیں جبکہ کانگریس کا شمالی ریاستوں سے مکمل طو پر خاتمہ ہو گیا تھا۔

ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اس کی واپسی سے پارٹی کو ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔

مکمل نتائج آنے میں میں ابھی کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں لیکن جے پور، رائے پور اور دلی میں کانگریس کے دفاتر کے باہر پارٹی کے حامی جمع ہونے لگے ہیں۔
بی بی سی ہندی کے راجستھان میں نامہ نگار نتن سری واستو کی تصاویر میں کانگریس اور بی جی پی کے پارٹی دفاتر میں بالکل مختلف ماحول دیکھا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کے دہلی میں نامہ نگار سوتک بسواس کا کہنا ہے کہ کانگریس نے نمایاں طور پر تین اہم ریاستوں میں اپنی کاکردگی کو بہتر بنایا ہے اور اس کے نتیجے میں اس رائے کو تبدیل کرنے میں مدد ملے گی کہ وزیراعظم مودی کو شکست نہیں دی جا سکتی۔

ان کے مطابق ان نتائج سے جماعت کے کارکنوں کا حوصلہ بلند ہو گا اور کانگریس جماعت آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات میں اس وقت کشمکش کا شکار علاقائی اتحادیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.