33

روہنگیا کی نسلی کشی جاری، طریقہ بدل گیا ہے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک اعلیٰ اہلکار نے منگل کو کہا ہے کہ میانمار کی ریاست رخائن میں اب بھی مسلمانوں کی نسلی کشی جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے مندوب کی رخائن میں جاری تشدد کی مہم اور خوراک کی جعلی قلت پر جائزہ رپورٹ روہنگیا مسلمانوں پر میانمار کی فوج کی یلغار کے چھ ماہ بعد سامنے آئی ہے۔ میانمار کی فوج کی نھتے شہریوں پر کارروائی کی وجہ سے لاکھوں افراد بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔

میانمار کی فوج کی کارروائی کے نتیجے میں بچوں اور عورتوں سمیت سات لاکھ افراد بنگلہ دیش منتقل ہو گئے تھے۔

ان لوگوں نے سرکاری فوجیوں اور مسلح لوگوں کی طرف سے تشدد، گھیراؤ جلاؤ اور قتل عام کی کہانیاں بیان کی ہیں۔

میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صرف روہنگیا شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں اور اس نے رخائن کی ریاست میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نائب سیکریٹری جرنل اینڈریو گلمور نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے صرف طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازار میں انھوں نے جو کچھ سنا ہے اس کے بعد اس کے سوا کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا ہے کہ رخائن میں نسل کشی جاری ہے۔

اینڈریو گلمور نے کہا کہ گزشتہ سال کے قتل عام اور وسیع پیمانے پر خواتین کو ریپ کرنے کی مہم کی جگہ اب ذرا کم شدت کے تشدد اور خوراک کی جعلی قلت کے حالات پیدا کرنے کا طریقہ اپنا لیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش اور میانمار کے حکام کے درمیان بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کے بارے میں مذاکرات جاری ہیں لیکن میانمار کی سرحد پر فوج جمع ہونے سے روہنگیا پناہ گزیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے مندوب کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمان پناہ گزیوں کا مستقبل قریب میں’بحفاظت، باعزت اور مستقل طور پر` رخائن واپس لوٹ جانا بعید از قیاس ہے۔

انھوں نے کہا کہ میانمار کی حکومت دنیا کو یہ بارو کرانے کی کوشش کر رہی ہے وہ روہنگیا پناہ گزیوں کو واپس قبول کرنے کے لیے تیار ہے لیکن ساتھ ہی میانمار کی فوج کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش میں دھکیلنے کی مہم جاری ہے۔

بنگلہ دیش کے علاقے کاکس بازاز پہنچنے کے کئی ماہ بعد سات لاکھ روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت کو اب عارضی جھگیاں اور امدادی ایجنسیوں کی طرف سے فراہم کردہ خوراک میسر ہے۔ یہ پناہ گزین اب سڑکوں کے کنارے یا جنگلات میں کھلے آسمان تلے نہیں پڑے۔

اقوام متحدہ کے مندوب نے کہا کہ بلوکھلی میں دنیا کے سب سے بڑے پناہ گزیں کیمپ سے گزرنا ایک انتہائی تکلیف دہ تجربہ تھا۔ کیمپ کے بیچوں بیچ گندا پانی بہہ رہا تھا اور زیادہ تر بانسوں اور پلاسٹ شیٹس کی عارضی جھگیاں ناہموار پہاڑی ڈھلوانوں پر بنی ہوئی تھیں۔ ان بے درودیوار جھگیوں میں تین لاکھ سے زیادہ عورتیں، بچے اور بوڑھے افراد رہنے پر مجبور ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فی الحال ان پناہ گزیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن چند ماہ بعد مون سون کی بارشیوں کے شروع ہونے کے بعد اس بستی میں صورت حال انتہائی بگڑ جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.