25

’روس نہیں اب چین امریکہ کا عسکری حریف‘

ماہرین نے کہا ہے کہ چین اپنی مسلح افواج کو توقعات سے کہیں بڑھ کر جدید تر بنا رہا ہے۔

لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) نے کہا ہے کہ اب روس کی بجائے چین وہ ملک بن گیا ہے جس سے امریکہ اپنی فوج کا تقابل کر کے اس کی ضروریات کا تعین کرتا ہے۔

اس بات کا اطلاق خاص طور پر بحری اور فضائی افواج پر ہوتا ہے، کیوں کہ یہی دو شعبے چین کی توجہ کا مرکز ہیں۔

آئی آئی ایس ایس نے اس رجحان کا ذکر ’عسکری توازن‘ نامی ایک رپورٹ میں کیا ہے جس میں عالمی فوجی صلاحیت اور دفاعی اخراجات کا تعین کیا گیا ہے۔

چین کی فوجی ترقی خاصے عرصے سے جاری ہے، تاہم اب وہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں اسے امریکہ کا مقابل قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس رپورٹ کی اشاعت سے قبل میں نے آئی آئی ایس ایس کے ماہرین سے بات کی تاکہ اس کی تفصیلات معلوم کی جا سکیں۔

چینی کی فوجی تکنیکی صلاحیتیں نہایت قابلِ ذکر ہیں، چاہے وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہوں یا پھر اس کے جدید ترین لڑاکا طیارے۔ گذشتہ برس اس نے ایک ایسا بحری جہاز سمندر میں اتارا جس کی جنگی صلاحیت نیٹو کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

چین اپنے دوسرے طیارہ بردار بحری جہاز پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنی فوج کے کمانڈ سینٹر کی تشکیلِ نو کر رہا ہے تاکہ تمام کلیدی شعبے ایک ہی جگہ سے کنٹرول کیے جا سکیں۔

توپ خانہ، فضائی دفاع اور زمینی حملہ وہ شعبے ہیں جہاں چین امریکہ کو برابر کی ٹکر دے سکتا ہے۔

1990 کی دہائی کے اواخر میں روس نے چین کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی دی تھی، جس کے بعد سے چین نے اپنے سطحِ سمندر اور زیرِ سطح بیڑوں کو مزید تقویت دی ہے۔

چین نے ‘پانچویں نسل’ کہلانے والا جے20 نامی لڑاکا طیارہ بنا لیا ہے جو سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہے۔ آواز کی رفتار سے تیز اس طیارے میں جدید ترین فضائی ٹیکنالوجی نصب ہے۔

تاہم آئی آئی ایس ایس کے ماہرین کو چند شکوک بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘چینی فضائیہ کو ابھی وہ طریقۂ کار طے کرنا ہے جس کی مدد سے وہ پانچویں نسل کے طیاروں کو چوتھی نسل کے طیاروں کے ساتھ ملا کر جنگی حکمتِ عملی تیار کر سکیں۔

‘اس کے باوجود چین کی ترقی واضح ہے۔ آپ ان طیاروں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نصب کر کے انھیں مغربی اسلحہ خانوں کے ہم پلہ لا سکتے ہیں۔’

عسکری توازن رپورٹ کے ایک باب میں ایسے چینی اور روسی فضائی اسلحے کا جائزہ لیا گیا ہے جو مغربی تسلط کے لیے امتحان بن سکتے ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے کئی فضائی مہمات میں حصہ لیا ہے جس میں ان کے بہت کم طیارے ضائع ہوئے ہیں۔

تاہم آئی آئی ایس ایس کے مطابق یہ برتری اب خطرے میں ہے۔ مثال کے طور پر چین فضا سے فضا میں چھوڑے جانے والے دور مار میزائل بنا رہا ہے جو کمانڈ اینڈ کنٹرول طیاروں کو دور سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔

‘عسکری توازن’ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی ترقی سے 2020 تک امریکہ کو نہ صرف اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی پر مجبور ہونا پڑے گا، بلکہ اپنے ایئروسپیس پروگرام کی سمت پر بھی غور کرنا پڑے گا۔

آئی آئی ایس ایس کے مطابق بری فوج کے شعبے میں چین ابھی مغرب سے پیچھے ہے۔ اس کا تقریباً نصف اسلحہ جدید جنگی اعتبار سے ابھی پیچھے ہے۔

لیکن چین اس میں بھی کام کر رہا ہے۔ اس نے 2020 تک کا ہدف مقرر رکھا ہے جس کے اندر اندر بری فوج کو جدید بنایا جائے گا۔ چین اسلحے کے استعمال میں آئی ٹی کو زیادہ سے زیادہ شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین کا ایک عسکری ہدف بہت واضح ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جنگ کی صورت میں امریکی فوجی طاقت کو اپنی سرحدوں سے ہر ممکن حد تک دور دھکیل دیا جائے اور اگر ممکن ہو تو جنگ بحرِ الکاہل میں لڑی جائے۔

جنگی اصطلاح میں اسے ‘اپنے علاقے تک عدم رسائی’ کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور بحری نظام تیار کر رہا ہے تاکہ امریکی بحری بیڑے کو دور رکھا جائے۔

فوجی لحاظ سے چین ‘پریمیئر لیگ’ میں داخل ہو چکا ہے۔ لیکن چین اس سے بھی ایک قدم آگے جا رہا ہے۔ اس نے اسلحے کی برآمد کی فعال حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے جس کے تحت وہ ایسے ملکوں کو جدید عسکری ٹیکنالوجی بیچنے پر تیار ہے جنھیں مغربی ملک یہ ٹیکنالوجی نہیں دیتے۔

مثال کے طور پر امریکہ نیٹو کے علاوہ دوسرے ملکوں کو جنگی ڈرون کی ٹیکنالوجی نہیں دیتا۔ اس کے مقابلے پر آئی آئی ایس ایس کے مطابق چین نے پاکستان، مصر، سعودی عرب، عرب امارات اور دوسرے ملکوں کو جنگی ڈرون فروخت کیے ہیں۔

آئی آئی ایس ایس کے ماہرین نے مجھے بتایا کہ چین آپ کو 75 فیصد امریکی صلاحیت والا اسلحہ 50 فیصد قیمت پر بیچنے کے لیے تیار ہے، جو عمدہ تجارتی ڈیل ہے۔

آئی آئی ایس ایس نے کہا کہ چین مختلف منڈیوں کے لیے مخصوص اسلحہ بھی بنا رہا ہے۔ مثلاً اس نے ایک ہلکا ٹینک بنایا ہے جو افریقی ملکوں کے لیے موزوں ہے۔

چین کی دفاعی میدان میں سرمایہ کاری بہت سے ملکوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ مغربی ملکوں کی فضائیہ کو کئی عشروں سے برتری حاصل ہے لیکن چین کی ‘عدم رسائی’ کی پالیسی ان کے قریب آ رہی ہے۔

چین اور مغربی ملکوں کی براہِ راست جنگ کا امکان تو کم ہے، لیکن یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ ان کا کسی اور ملک میں جدید چینی اسلحہ سے آمنا سامنا ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.