32

راؤ انوار بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش، کولنگ کم ہونے کا شکوہ

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت کے دوران سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر ملزمان کو پیش کردیا گیا۔

کمرۂ عدالت کے اے سی کی کولنگ کم ہونے پر راؤ انوار نے شکوہ کردیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کر رہی ہے جس کے دوران مقدمے میں نامزد ملزم ڈی ایس پی قمر احمد نے ضمانت کی درخواست دائر کر دی۔

پولیس نے مفرور ملزمان شعیب شوٹر، امان اللہ مروت اور دیگر کی عدم گرفتاری سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ تاحال مفرور ملزمان کاسراغ نہیں لگایا جا سکا، ملزمان کو گرفتار کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

دورانِ سماعت راؤ انوار کو جیل میں بی کلاس کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق درخواست پر وکلاء نے دلائل دیے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد راؤ انوار نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو ہوئی۔

ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ راؤانوار صاحب سنا ہے کہ کورٹ میں گرمی زیادہ ہے، لیکن آپ تو ہشاش بشاش لگ رہے ہیں۔انوار نے جواب دیا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

صحافی نے پھر پوچھا کہ آپ تو بڑے مسکراتے ہوئے نکلے ہیں، کمرہ عدالت میں ہوا کیا ہے؟

جس پر راؤ انوارنے جواب دیا کہ میرے وکیل آپ کو بتا دیں گے کہ کیا ہوا ہے،بی کلاس کی درخواست اور دیگر معاملات پر میرے وکیل آپ کو بتائیں گے۔

زیر سماعت مقدمات کے ملزمان کو اورنج رنگ کی جیکٹ پہنانا ضروری ہے ، اس لیے عدالتی ریمانڈ پر لائے گئے ہر ملزم کو اورنج رنگ کی جیکٹ پہنائی جاتی ہے، تاہم جیل حکام نے راؤ انوار کو اورنج رنگ کی جیکٹ سے استثنیٰ دے دیا ہےاور سابق ایس ایس پی کو ہتھکڑی لگائے بغیر سادہ کپڑوں میں عدالت لایا گیا۔

کرپشن کے الزام میں گرفتار کئی اعلیٰ پولیس افسران کو بھی اورنج جیکٹ پہنا کر عدالت لایا جاتا ہے، ڈی ایس پی قمر احمد سمیت نقیب اللہ قتل کیس کے باقی تمام ملزمان کو اورنج رنگ کی جیکٹ پہنائی گئی ہے۔

مذکورہ کیس کی 14 مئی کو ہونے والی گذشتہ سماعت پر عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کا نامزد گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا، عدالت نے ملزمان پر 19 مئی کو ہونے والی آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

رواں برس 13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے ایک نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا۔

تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

بعدازاں 20 مارچ کو راؤ انوار سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، جہاں چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر عدالت عظمیٰ کے احاطے سے راؤ انوار کو گرفتار کرکے کراچی پہنچا دیا گیا تھا، جہاں انسداد دہشت گردی عدالت میں ان کے خلاف نقیب قتل کیس کی سماعت جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.