33

دھرنا دینے والوں سے ایک دن کا عوامی احتجاج برداشت نہیں ہو سکا، اکرم درانی

وفاقی وزیر ہائوسنگ اینڈ ورکس اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں 100 دن سے زیادہ دھرنے دینے والوں سے پشاور میں ایک دن کی عوامی احتجاج برداشت نہیں ہو سکا جو ان کے قوت برداشت کا واضح ثبوت ہے کہ ان لوگوں میں برداشت ہی نہیں اور یہ لوگ سیاسی لوگ نہیں فاٹا کے عوام کے مرضی کے خلاف ان پر فیصلہ ٹھونسا گیا ہے ان کے خلاف پر امن احتجاج پرلاٹھی چارج ملک کی بدترین غنڈہ گردی اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے منہ پر طمانچہ ہے ان خیالات کا اظہار فاٹا ے انضمام اور پشاور میں پر امن جلوس پر پولیس کی لاٹھی چارج کے حوالے میڈیا سے سعودی عرب سے ٹیلی فونک رابطہ کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ائین پاکستان میں ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے رائے کا اظہار آزادی سے کرے تحریک انصاف نے اسلام اباد میں سو دن سے زائد دھرنا دیا حکومت نے ان کو کچھ بھی نہیں کہا بلکہ ان کو تحفظ فراہم کیا لیکن جمہوریت سے نا واقف تحریک انصاف کے حکومت والے صوبے میں جب فاٹا کے لوگ اپنے جائز حق کے لئے پشاور میںپر امن احتجاج کر رہے تھے تو ان پر بد ترین ریاستی دہشت گردی کی گئی اور لوگوںکو اس مبارک مہینے میں خون میں نہلایا گیا انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے حوالے سے ہمارا جماعتی موقف واضح ہے کہ فاٹا کے عوام پر ان کے مرضی کے خلاف کوئی بھی فیصلہ نہ ٹھونسا جائے اور فاٹا کے حوالے سے ان کو آزاد چھوڑا جائے کہ وہ اس حوالے سے اپنے مرضی سے فیصلہ کریں انہوں نے کہا کہ پی ٹی ائی کی حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے ان کی تمام پالیسیاںغیر موثر ہو چکی ہیں اور اخر وقت میں وہ غنڈہ گردی پر بھی اتر ائی ہے انہوں نے کہا کہ آنے والا دور ایم ایم اے کا ہے مکمل پانچ سال کا حساب کتاب پرویز خٹک سے کرینگے جماعت کے ہر کارکن کے خون کا حساب لینگے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.