37

دور دراز دنیاؤں کا کھوج لگانے والا مشن خلا میں روانہ

امریکی خلائی ادارے نے ریاست فلوریڈا کے کیپ کنیورل سے ٹیس نامی ایک مصنوعی سیارہ خلا میں روانہ کیا ہے جس کا مقصد نظامِ شمسی سے باہر ہزاروں نئے سیاروں کا کھوج لگانا ہے۔

یہ مشن ستاروں کے بڑے جھرمٹوں کے اندر جھانک کر وہاں ممکنہ طور پر موجود ستاروں کی چمک میں کمی کا سراغ لگانے کی کوشش کرے گا۔

دور دراز واقع سیارے براہِ راست تو نہیں دیکھے جا سکتے، البتہ جب وہ اپنے ستارے کے گرد مدار میں چکر لگاتے لگاتے ستارے کے سامنے آ جاتے ہیں تو ستارے کی چمک تھوڑی دیر کے لیے ایک مخصوص انداز میں مانند پڑ جاتی ہے۔

ٹیس کا مقصد یہ ہے کہ وہ ایسے سیاروں کی فہرست تیار کرے تاکہ بعد میں ان کا دوسرے آلات کی مدد سے تفصیلی تجزیہ کیا جا سکے۔

مشن کے مرکزی تحقیق کار جارج رِکر کا تعلق امریکی یونیورسٹی ایم آئی ٹی سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘ٹیس میں چار نہایت حساس کیمرے نصب ہیں جو تقریباً تمام آسمان کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

ستارے کی چمک میں ایک مخصوص اور وقتی کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے آگے سے سیارہ گزر رہا ہے
‘ٹیس ایک عمل کے ذریعے سیارے کھوجتا ہے جس ‘ٹرانزٹ’ کہا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے ہم ستارے کے آگے سے اس کے گرد چکر لگانے والے سیارے کا سایہ دیکھ سکتے ہیں۔’

ناسا کی یہ تازہ ترین خلائی دوربین سپیس ایک کے فالکن 9 نامی راکٹ کے ذریعے مقامی وقت کے مطابق شام 6:51 پر خلا میں داغی گئی۔

49 منٹ کی پرواز کے بعد یہ مصنوعی سیارہ زمین کے گرد بیضوی مدار میں گردش کرنے لگا۔ سائنس دانوں نے اس کے مدار کا انتخاب بہت سوچ بچار کے بعد منتخب کیا ہے جس کے دوران یہ چاند کی کششِ ثقل سے بھی یوں استفادہ کرے گا کہ اسے بہت کم ایندھن جلانے کی ضرورت پیش آئے گی۔

اس لیے یہ مشن دو عشروں تک کام کرتا رہے گا۔

اس سے پہلے کیپلر نامی ایک اور خلائی دوربین ٹرانزٹ کی تکنیک استعمال کر کے پہلے ہی دو ہزار سے زیادہ سیارے دریافت کر چکی ہے۔

تاہم ٹیس کی حساسیت اور دائرۂ کار کیپلر سے کہیں بڑھ کے ہے، مزید یہ کہ آسمان کے بیشتر حصے کا جائزہ لینے کا اہل ہے۔

جب سیاروں کی تصدیق ہو جائے تو پھر دوسرے آلات کی مدد سے یہ پرکھنے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا ان کی فضا میں ایسی گیسوں تو نہیں پائی جاتیں جو زندگی کی نشاندہی کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.