27

دنیا میں سب سے زیادہ اور سب سے کم سگریٹ نوشی کہاں ہوتی ہے؟

فرانس میں صحت کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں روزانہ کی بنیاد پر لوگ سگریٹ پینا چھوڑ رہے ہیں۔ گذشتہ ایک برس کے دوران سگریٹ پینے والوں کی تعداد کم وپیشں میں دس لاکھ کی کمی آئی ہے۔

لیکن گذشتہ برس سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں کی مجموعی تعداد اس کے انسداد کی پالیسیوں کے باوجود بڑھی ہے۔

انسداد تمباکو کے عالمی دن کے موقع پر ہم نے ان ممالک کی فہرست مرتب کی ہے جہاں سب سے زیادہ اور سب سے کم سگریٹ پی جاتی ہے۔

1) کریبتای

کریبتای ایک جزیرہ ہے جہاں بسنے والے دو تہائی مرد اور ایک تہائی عورتیں سگریٹ پیتی ہیں۔

بحرالکاہل کے جزائر میں شامل اس جزیرے کی کل آبادی فقط ایک لاکھ تیس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

انھیں سگریٹ باآسانی دستیاب ہے کیونکہ وہاں اس پر بہت کم ٹیکس لاگو ہے۔

2) مونٹینیگرو

مشرقی یورپ کا ملک مونٹی نیگرو پورے براعظم میں سب سے زیادہ سگریٹ نوشوں والا ملک ہے۔

یہاں کی 46 فیصد آبادی سگریٹ پیتی ہے جو کہ پورے یورپ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

اس بلقان ریاست کی کل آبادی چھ لاکھ 33 ہزار ہے اور یہاں ہر سال ایک بالغ شخص 4124 سگریٹ پی لیتا ہے۔

اگرچہ ملک میں عوامی مقامات پر سگریٹ پینا منع ہے لیکن لوگ پھر بھی دفاتر، ریستورانوں، بازاروں، یہاں تک کہ پبلک ٹرنسپورٹ میں بھی کھلے عام سگریٹ پیتے ہیں۔

3)یونان

دنیا بھر میں یونان تمباکو نوشی کرنے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں مردوں کی نصف سے زیادہ آبادی اور 35 فیصد خواتین اس کی عادی ہیں۔

سنہ 2008 سے وہاں عوامی مقامات پر سگریٹ پینے پر پابندی کے باوجود اس کا استعمال کھلے عام دیکھنے کو ملتا ہے۔

غیر قانونی سمگلنگ بھی ہوتی ہے اور یورپی مارکیٹ کا جائزہ لینے والے ادارے یورو میٹر انٹرنیشنل کے اندازوں کے مطابق یونان سنہ 2019 تک اپنی آمدن سے ایک ارب تک کھو سکتا ہے۔

4) مشرقی تیمور

مشرقی تیمور میں 80 فیصد مرد تمباکو نوشی کے عادی ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے لیکن یہاں صرف چھ فیصد خواتین اس عادت میں مبتلا ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیا کے غریب ملک میں سگریٹ کا پیکٹ بہت سستا ہے۔ ایک ڈبیہ ایک ڈالر سے بھی کم میں مل جاتی ہے۔

روس میں سگریٹ نوشی غیر قانونی قرار دینے پر غور

’سگریٹ نوشی کی کوئی محفوظ حد نہیں‘

ہر ڈبیہ پر صحت کے حوالے سے انتباہ بھی لکھا ہوتا ہے لیکن وہ بےمعنی ہے کیونکہ وہاں کی نصف سے بھی زیادہ آبادی پڑھ ہی نہیں سکتی۔

5)روس

روس اس فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے۔ یہاں 15 برس سے زیادہ عمر کے 60 فیصد مرد سگریٹ نوشی کرتے ہیں جبکہ 23 فیصد عورتیں اس کی عادی ہیں۔

یہ بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں کام کرنے کی جگہوں پر اس کا استعمال ممنوع ہے لیکن اشتہارات کی بھرمار سگریٹ نوشی کی شرح بڑھاتی ہے۔

یہاں بھی ایک ڈالر سے کم میں سگریٹ کا پیکٹ مل جاتا ہے۔

روس میں تمباکو کی مارکیٹ کی مالیت 22 بلین ڈالر تک ہے۔

گھانا، ایتھوپیا، نائجیریا، ایریٹریا اور پاناما وہ ممالک ہیں جن میں سب سے کم سگریٹ نوشی ہوتی ہے۔

14 فیصد افریقی تمباکو کے عادی ہیں اور عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ یہ 22 فیصد کی عالمی اوسط سے کہیں کم ہے۔

افریقہ میں تمباکو نوشی کرنے والوں میں مردوں کا تناسب 70 سے 85 فیصد ہے اور یہاں خواتین کی جانب سے اس کے کم استعمال کی وجہ معاشی طور پر خود مختار نہ ہونا ہے۔

اس کے علاوہ عورت کا سگریٹ پینا معاشرتی سطح پر بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔

گھانا، ایتھوپیا اور نائجیریا نے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لیے تجویز کردہ فریم ورک اختیار کیا ہے اور سخت اقدامات کیے ہیں تاکہ شہریوں کو اس کے برے اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔

تمباکو کے مقابلے میں ایک پودے کے پتے افریقہ میں بہت زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں اور یہاں کم تمباکو نوشی کی وجہ یہی نظر آتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اندازاً دنیا کی ایک کروڑ آبادی کھاٹ کے پتے چباتی ہے۔

طبی جریدے دی لینسیٹ کے مطابق اگرچہ افریقہ میں مجموعی طور پر تمباکو کا استعمال نسبتاً کم ہے اور یہ شرح 13 فیصد بتائی جاتی ہے لیکن ترقی پذیر دنیا میں یہ تناسب تیز ترین ہے۔

مغرب کے ترقی یافتہ ممالک میں قوانین، نگرانی اور ٹیکس کے سخت اصولوں کی وجہ سے سگریٹ پینے والوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ ایسے میں تمباکو کی صنعت کے مالکان نے ترقی پذیر ملکوں میں مارکیٹ تلاش کرلی ہے اور وہ وہاں بطور خاص نوجوان آبادی کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ سگریٹ کہاں پیے جاتے ہیں؟
ڈبلیو ایچ او کے مطابق چین میں سب سے زیادہ سگریٹ بنتا اور استعمال کیا جاتا ہے۔

30 کروڑ یعنی دنیا میں ایک تہائی کے قریب سگریٹ نوش افراد چین میں ہی رہتے ہیں۔

لیکن یورو مانیٹر انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ یہاں سنہ 2016 میں سگریٹ پینے کی شرح کم ہوئی تھی۔

خواتین
ڈنمارک وہ واحد ملک ہے جہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ سگریٹ نوشی کرتی ہیں۔ یہاں عورتوں کا تناسب 19.3 فیصد اور مردوں میں 18.9 فیصد ہے۔

درحقیقت سگریٹ نوشی کی شوقین عورتوں کی زیادہ تعداد عموماً یورپی ملکوں میں ملتی ہے۔ یہاں عورتوں اور مردوں کی تعداد میں فرق بھی بہت ہی کم ہے۔

ہر سال تمباکو نوشی سے 70 لاکھ سے زیادہ اموات ہوتی ہیں جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سگریٹ نوشی تو نہیں کرتے لیکن اس کا دھواں ان کے اندر بھی اترتا ہے۔ لیکن براہ راست اس کا استعمال کرنے سے مرنے والوں کی تعداد 60 لاکھ سے زیادہ ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی سگریٹ نوشی میں مبتلا ایک ارب دس کروڑ آبادی میں 80 فیصد ایسے ہیں جو متوسط یا کم آمدن والے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

برٹش امریکن ٹبیکو کے اندازے کے مطابق عالمی سطح پر تمباکو کی مارکیٹ کی مالیت 770 ارب ڈالر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.