120

دنیا میں بچوں کی الرجی کیوں بڑھ رہی ہے؟

دنیا بھر کے بچوں میں خوراک سے الرجی کے معاملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں برطانیہ میں جب دو نوعمر بچے مونگ پھلی اور تِل کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے تو یہ بات سامنے آئی کہ اس قسم کی صورتحال کے تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

اگست میں مغربی آسٹریلیا میں ایک چھ سالہ لڑکی کی ہلاکت ڈیری فوڈ سے ہوگئی۔

حالیہ دہائیوں میں مغربی ممالک میں الرجی کے کیسز بتدریج بڑھے ہیں۔

بچوں میں خوراک سے الرجی کے کیسز میں برطانیہ میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے، آسٹریلیا میں نو فیصد جبکہ یورپ میں مجموعی طور پر دو فیصد۔

اس قسم کی الرجی کی وجہ سے مریض کا خاندان بھی خوف میں مبتلا رہتا ہے اور کھانے پینے میں پرہیز اور پابندی خاندان کے لیے اور سماجی طور پر بھی ایک بوجھ بن سکتی ہے۔

ابھی اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا کیوں ہے اور الرجی کے کسیز کی تعداد کیوں بڑھتی جا رہی ہے۔ تاہم دنیا بھر کے ماہرین اس کی وجہ جاننے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

الرجی کیوں ہوتی ہے؟
الرجی اس وقت ہوتی ہے جب ہمارا قوت مدافعت کا نظام اپنے ماحول میں موجود چیز پر حملہ آور ہوتا ہے، یعنی ہر وہ چیز جو عام طور پر بے ضرر ہونی چاہیے۔

اس کے آثار میں جلد کی سرخی، سوجن اور بہت خراب صورتحال میں الٹیاں، پیچش اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

بچوں کو عموماً خوراک کی ان اقسام سے الرجی ہوتی ہے۔

دودھ
انڈا
مونگ پھلی
اخروٹ، چلغوزے
تل
مچھلی
گھونگے

خوراک سے الرجی کیسے ہوتی ہے؟
گذشتہ 30 سال کے دوران خوراک سے الرجی کے کیسز میں اضافہ خاص طور پر مغربی معاشروں میں نظر آیا ہے۔

مثال کے طور پر برطانیہ میں سنہ 1995 سے سنہ 2016 کے درمیان مونگ پھلی سے الرجی کی شرح میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔

کنگز کالج لندن کی جانب سے کی جانے والی ایک سٹڈی میں تین سال کے 1300 بچوں کو تحقیق کا حصہ بنایا گیا۔ تحقیق میں یہ سامنے آیا کہ ڈھائی فیصد بچے مونگ پھلی سے الرجی کا شکار تھے۔

آسٹریلیا میں خوراک سے الرجی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وہاں ایک سال تک کے نو فیصد بچوں کو انڈے اور مونگ پھلی سے الرجی ہے۔

الرجی کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک ممکنہ وجہ ماحول اور مغربی طرز زندگی بتائی جا رہی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ ترقی پزیر ممالک میں خوراک سے الرجی کا تناسب کم ہے اور وہاں کے شہری علاقوں میں یہ تعداد زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔

اس کی وجوہات میں جو عوامل شامل ہو سکتے ہیں ان میں آلودگی، خوراک میں تبدیلی، جراثیم کا کم سے کم سامنا کیونکہ اس سے ہمارا مدافعتی نظام جو کہ جراثیم کا مقابلہ کرتا ہے اس میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔

اپنے ملک سے ہجرت کرنے والوں میں بھی اپنے ملک کی نسبت یہاں دمے اور خوراک سے الرجی زیادہ دیکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ ماحولیاتی عوامل ہو سکتے ہیں۔

کچھ ممکنہ وضاحتیں
ابھی اس بارے میں کوئی ایک حتمی وضاحت سامنے نہیں آسکی کہ دنیا میں فوڈ الرجی اتنی زیادہ کیوں ہو گئی ہے تاہم سائنس میں اس حوالے سے کچھ تھیوریز ہیں۔

اس میں صفائی کا ناقص نظام بھی ایک سبب قرار دیا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے بچوں کو بہت سے انفیکشن ہو جاتے ہیں۔

جب جسم میں کوئی طفیلی انفیکشن ہوتا ہے تو جسم کے مدافعتی نظام کو اس سے لڑنا پڑتا ہے اور اس عمل میں جسم بے ضرر اجزا کے خلاف بھی متحرک ہو جاتا ہے۔

ایک اور خیال کے مطابق وٹامن ڈی ہمارے جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر بنا سکتی ہے کہ وہ مثبت ردعمل ظاہر کرے اور ہمیں الرجی سے بچائے۔

دنیا کی زیادہ تر آبادی کو کافی مقدار میں وٹامن ڈی نہیں مل پاتی اور وہ اپنا کم ٹائم سورج کی روشنی میں گزارتے ہیں۔

صرف امریکہ میں وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد کی تعداد میں ایک دہائی میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔

ایک نئی تھیوری کے مطابق الرجی کے حلاف اینٹی باڈیز کو جلد کے ذریعے بھی لیا جا سکتا ہے خاص طور پر بچوں میں جو ایگزیما کا شکار ہوں۔

جب بچہ دودھ چھوڑ رہا ہو تو اسے چکنائی اور شوگر کھلائی جائے تو وہ آنت کے اندر مدافعتی نظام کو بہتر کرتی ہے اور الرجی سے بچاتی ہے کیونکہ اس طرح وہ بیکٹریا، بیرونی اجزا مثلاً خوراک کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔

کنگز کالج لندن میں کی جانے والی لیب سٹڈی میں بتایا گیا کہ پانچ سال کے وہ بچے جنھوں نے پیدائش کے سال سے مونگ پھلی کھانی شروع کی تھی ان میں مونگ پھلی سے الرجی کا تناسب 80 فیصد کم پایا گیا۔

اس تحقیق نے اس سے قبل امریکہ میں موجود احتیاطی تدابیر کے اس اصول کو بھی تبدیل کر دیا کہ بچوں کو بچپن میں مونگ پھلی دی ہی نہیں جانی چاہیے۔

برطانیہ میں والدین سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ڈاکٹر سے بھی رجوع کریں۔

انسانی اثرات
حال ہی میں برطانیہ میں کم عمر بچوں کی الرجی کی وجہ سے اموات نے اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے کہ اس حوالے سے درست اور واضح معلومات ہونی چاہیے۔

ابھی فوڈ الرجی کے لیے کوئی علاج نہیں ہے بس یہی ہے کہ اس قسم کی خوراک مریض کو نہ دی جائے اور اگر ایسا ہو جائے تو ایمرجنسی بنیادوں پر اسے علاج فراہم کیا جائے۔

لیکن یہ بچوں کے لیے بہت پریشان کن ہے اور انھیں الرجک ری ایکشن کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔

کنگز کالج نے ان کے لیے پہلے سے موجود ٹیسٹ کے طریقوں کے بجائے ایک متبادل بلڈ ٹیسٹ استعمال کیا ہے جس میں مونگ پھلی سے الرجی کا واضح طور پر پتہ چل جاتا ہے۔

اس ٹیسٹ سے بچوں کی نوے فیصد الرجی کا پتہ چلتا ہے اور امید ہے کہ یہ اگلے چند سالوں میں بچوں کے لیے میسر ہو گا۔

کامیاب تشخیص کے باوجود اکثر اوقات مریضوں میں اچانک سے خوراک سے ری ایکشن ہو جانا عام سی بات ہیں کیونکہ اس کا سبب بننے والی خوراک کو چھوڑنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

اس ضمن میں ایک ایسی تھراپی کا استعمال کیا جاتا ہے جسے الرجن امیونو تھراپی کہتے ہیں۔ ایک مادے کی مدد سے مریض کو الرجی کی شدت سے بچایا جاتا ہے تاکہ حادثاتی طور پر اگر اس نے ممنوعہ خوراک کا استعمال کر لیا تو وہ اس کی صحت کو خطرات لاحق نہ ہوں۔

دیگر قسم کے علاج پر ابھی کام ہو رہا اور بہت سا کام ابھی باقی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ بچے اور ان کے والدین کے لیے روزمرہ کی زندگی کے اندر الرجی ایک پریشانی کی صورت میں موجود ہے۔
ڈاکٹر الیگزینڈرا سانتوس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.