22

دبئی کے امیر کی بیٹی شیخہ لطیفہ کہاں گئیں؟

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے متحدہ عرب امارات کے حکام سے اپیل کی ہے کہ دبئی کے امیر کی بیٹی شیخہ لطیفہ کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ کہاں ہیں۔

شیخہ لطیفہ دبئی کے امیر محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے آزادی کی زندگی جینے کے لیے ملک سے بھاگنے کی کوشش کی تھی۔

لیکن عینی شاہدین کے مطابق وہ جس پرتعیش کشتی میں بھاگ رہی تھیں سکیورٹی اہلکار اسے روک کر واپس دبئی لے آئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے کسی نے انھیں دیکھا یا سنا نہیں ہے۔

بی بی سی کے گیبریئل گیٹ ہاؤس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ قانونی وجوہات کی وجہ سے ان الزامات کا جواب نہیں دے سکتے اور یہ کہ الزامات لگانے والے افراد کا خود مجرمانہ کارروائیوں میں شامل ہونے کا ریکارڈ موجود ہے۔

شیخہ لطیفہ کو رواں سال مارچ کے بعد سے نہیں دیکھا گیا ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ایک سابق فرانسیسی جاسوس ایروے جوبیر اور فن لینڈ سے تعلق رکھنے والی اپنی دوست اور مارشل آرٹس کی استاد ٹینا جوہینن کی مدد سے ملک سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھیں جب انھیں پکڑ لیا گیا۔

شیخہ لطیفہ کا پیغام
شیخہ لطیفہ کے گمشدہ ہونے کے بعد ان کے دوستوں نے حکام پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جو ان کے مطابق شیخہ نے اس واقعے سے پہلے ریکارڈ کروایا تھا اور کچھ ہونے کی صورت میں اسے منظر عام پر لانے کو کہا تھا۔

اس ویڈیو میں وہ کہتی ہیں ‘میں یہ ویڈیو بنا رہی ہوں کیوںکہ شاید یہ وہ آخری ویڈیو ہو جو میں بنا رہی ہوں۔ اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو یہ اچھا نہیں ہے ۔۔۔ کیوں کہ یا تو میں مر چکی ہوں یا پھر کسی بہت ہی مشکل صورتحال میں ہوں۔’

اپنے والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ‘میرے والد کو صرف اپنی ساکھ کی فکر ہے۔’

ان کی دوست ٹینا جوہینن کہتی ہیں ‘وہ آزادی چاہتی تھی۔ انھوں نے 2002 میں بھی بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن انھیں جیل میں ڈال دیا گیا جہاں انھوں نے تقریباً ساڑھے تین سال گزارے تھے۔’

فرار ہونے کا منصوبہ کیسے بنا؟
گذشتہ برس شیخہ لطیفہ نے فرانس کی انٹیلیجنس کے ایک سابق افسر ایروے جوبیر سے رابطہ کیا تھا۔ اس شخص کا دعویٰ ہے کہ کئی برس پہلے وہ خود ایک برقعے میں دبئی سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ انھیں ایسا اس لیے کرنا پڑا تھا کیوںکہ ان کے مطابق ‘ایک کاروباری معاہدے میں کچھ تلخیاں پیدا ہوگئی تھیں اور ان پر خرد برد کے الزامات لگائے گئے تھے۔’

وہ بتاتے ہیں کہ شیخہ لطیفہ بھی اسی طرح سے بھاگنے کا ارادہ رکھتی تھیں جیسے وہ بھاگے تھے۔ ‘ایک تورپیڈو (آبدوز کشتی) اور سانس لینے والے آلے کی مدد سے اور میں نے انھیں کہا کہ مجھے آپ کو اس کی تربیت دینی ہوگی۔’

ان کے مطابق شیخہ نے 20 سے 30 ہزار ڈالر میں یہ سانس لینے والے آلات خرید بھی لیے تھے۔

لیکن پھر شیخہ نے تورپیڈو کا منصوبہ ترک کر دیا اور وہ اپنی دوست ٹینا کے ساتھ گاڑی کے ذریعے ہمسایہ ملک عمان میں داخل ہوئیں۔ وہاں سے ان کے مطابق انھیں ایک ڈنگی کے ذریعے بین الاقوامی حدود میں کھڑی ایک کشتی تک پہنچایا گیا۔ اس کشتی پر سابق فرانسیسی جاسوس موجود تھا۔

اور وہاں سے وہ انڈیا کی جانب روانہ ہوگئے۔

متحدہ عرب امارات کی درخواست پر انٹرپول کی جانب سے مارچ میں جاری کیے گئے ایک ریڈ وارنٹ سے ان کی کہانی کی کچھ حد تک تصدیق ہو جاتی ہے۔ لیکن اس وارنٹ میں الزام ہے کہ شیخہ بھاگی نہیں بلکہ انھیں اغوا کیا گیا تھا۔

پھر اس دن کشتی پر ہوا کیا تھا؟

جاسوس کا کہنا ہے کہ انھوں نے غور کیا کہ کئی کشتیاں کئی دنوں تک ان کا پیچھا کرتی رہیں۔

اور آخر کار چار مارچ کو جب وہ انڈیا کے شہر گوا کے قریب تھے تو ایروے کشتی میں وہ اوپر اور شیخہ اپنی دوست کے ساتھ نیچے کیبن میں تھیں جب ان کی دوست کے مطابق انھیں اوپر سے گولیوں کی آوازیں آئیں جو بعد میں پتہ چلا کہ گرنیڈ تھے۔

ایروے کے مطابق جب انھوں نے ایک کشتی کو اپنی جانب آتے دیکھا تو انھیں لگا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس میں کمانڈو تھے جنھوں نے ان کی جانب بندوقیں تان رکھی تھیں۔

ان کی دوست بتاتی ہیں کہ ‘ہم نے خود کو باتھ روم میں بند کر لیا۔ ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور لطیفہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ کوئی انھیں لینے آ پہنچا ہے۔ ہم باتھ روم سے باہر آئیں تو کمرہ دھوئیں سے بھرا ہوا تھا۔ مجھے زمین پر دھکا دے کر میرے ہاتھ باندھ دیے گئے۔ ‘

جاسوس بتاتے ہیں کہ انھوں نے لطیفہ کو چیختے چلاتے سنا۔

‘وہ کہہ رہی تھی کہ میں نہیں جانا چاہتی، مجھے کشتی پر چھوڑ دو، میں واپس جانے پر مرنے کو ترجیح دوں گی۔’

‘پانچ منٹ بعد میں نے ہیلی کاپٹر کی آواز سنی اور وہ اسے لے گئے۔‘

کیا اس دن کشتی پر انڈین کمانڈو سوار ہوئے تھے؟

ایروے اور ٹینا دونوں کا کہنا ہے کہ یہ سب باتیں عربی نہیں بلکہ انگلش میں ہو رہی تھیں۔ ان کے مطابق کشتی پر پہلے چڑھنے والے کمانڈو اماراتی نہیں بلکہ انڈین تھے۔

ایروے کہتے ہیں ‘اس وقت تو مجھے یہ یقیناً نہیں پتہ تھا کہ وہ انڈین ہیں کیوںکہ وہ انگریزی بول رہے تھے لیکن پھر میں نے لکھا ہوا دیکھا کہ انڈین کوسٹ گارڈز۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے ایک شخص کو انگریزی میں یہ بھی کہتے سنا کہ ‘چلو لطیفہ گھر چلیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ لطیفہ چلا رہی تھیں کہ وہ سیاسی پناہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

جب بی بی سی نے انڈین حکومت سے اس پر ردعمل کے لیے رابطہ کیا تو ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

شیخہ لطیفہ کے جانے کے بعد کشتی کا رخ دبئی کی جانب موڑ دیا گیا۔ ایروے اور ٹینا اب بھی اس پر موجود تھے لیکن اب یہ کشتی اماراتی اہلکاروں کے کنٹرول میں تھی۔

ان کے مطابق دبئی پہنچنے پر ان کی آنکھوں پر پٹیاں اور ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں باندھ دی گئی تھیں۔

ٹینا کہتی ہیں کہ ‘وہ مجھے دھمکی دے رہے تھے کہ مجھے موت کی سزا یا عمر قید ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تم نے دبئی کے حکمراں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ تمھیں کسی کی بھاگنے میں مدد نہیں کرنی چاہیے۔’

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس موقع پر بہت خوفزدہ تھیں۔

ٹینا اور ایروے کے مطابق انھیں ایک ہفتے تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

شیخہ کے لیے آواز کون اٹھا رہا ہے؟
شیخہ لطیفہ کی گمشدگی کے معاملے پر ایک انسانی حقوق کا گروپ ‘ڈیٹینڈ اِن دبئی’ یعنی ’دبئی میں حراست میں‘ آواز اٹھا رہا ہے لیکن یہ گروپ اس لیے متنازع ہے کیوںکہ اس کے دو ممبران کے خلاف دبئی میں جرم ثابت ہو چکے ہیں۔

لندن میں ایک پریس کانفرس کے دوران اس کہانی کو منظر عام پر لانے کے پیچھے ان کی نیت پر سوال اٹھائے گئے۔

ان سے پوچھا گیا کہ ایسی باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ انھیں قطر کی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

اس کے جواب میں گروپ میں شامل وکیل ٹوبی کیڈمین نے کہا کہ ‘ہمیں قطری یا کسی بھی دوسری حکومت کی جانب سے کوئی معاونت حاصل نہیں ہو رہی ہے۔’

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات سمیت دیگر عرب ریاستوں نے گذشتہ برس قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیے تھے۔

سیاسی کھیل؟
کیا شیخہ لطیفہ اس سیاسی کھیل میں ایک مہرے کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں؟

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک حکومتی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کے مطابق ’لطیفہ اب اپنی فیملی کے ساتھ ہیں اور یہ پوری کہانی دبئی کے حکمراں اور شیخہ کے والد کو بدنام کرنے کی قطری سازش کا حصہ ہے۔‘

لیکن سابق جاسوس نے شیخہ کی مدد کیوں کی؟
سابق فرانسیسی جاسوس ایروے جوبیر جو خود بھی امارات سے بھاگے تھے آخر شیخہ کی مدد کیوں کر رہے تھے؟

ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس کے پیسے ملنے تھے لیکن انھوں نے رقم بتانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس سے منفی تاثر پڑے گا اور لوگ سمجھیں گے کہ یہ سب انھوں نے صرف پیسے کے لیے کیا اور ان کے مطابق ایسا نہیں ہے۔

اس دن کشتی سے لے جائے جانے کے بعد شیخہ لطیفہ کی جانب سے نہ کچھ سنا گیا ہے اور نہ ہی انھیں کہیں دیکھا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.