75

خیبرپختونخواہ کے نجی سکولوں کے کھاتے منجمد کرنے کا حکم

یہ فیصلہ والدین کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں دی گئی ایک درخواست پر کیا گیا ہے۔ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے نجی سکولوں کے نگران ادارے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر صوبے کے بائیس نجی سکولوں کے بینک اکاونٹس منجمد کرنے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو خط لکھ دیا ہے۔

دوسری جانب نجی سکولوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ مفت تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، نجی اداروں کی نہیں ہے۔

خیبر پختونخوا میں دو دن تک نجی سکول بند

سٹیٹ بینک آف پاکستان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ شیڈول بینکوں کو پابند کیا جائے کہ ان 22 سکولوں کے اکاونٹس منجمد یا سیل کر دیے جائیں تاکہ یہ سکول حکومت کے احکامات کے پابند رہیں۔

یہ فیصلہ والدین کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں دی گئی ایک درخواست پر کیا گیا ہے ۔ والدین کا کہنا تھا کہ بچوں کی سکول کی فیسوں میں ہر سال اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

والدین کے مطابق یہ سکول کہتے ہیں کہ اگر سکول میں ایک سے زیادہ بہن بھائی ہوں تو ایک کے علاوہ باقی بچوں کی آدھی فیس وصول کی جائے گی اور یہ کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران سکولوں کی فیس وصول نہیں جائے گی، لیکن ان باتوں پرعمل نہیں کیا جاتا ہے۔

چند ایک سکولوں میں فیسوں میں مختصر عرصے میں بھاری اضافے کیے گئے اور جہاں فیسوں میں معمول کے مطابق اضافے کیے گئے وہاں اضافی فیس طلب کی گئی، مثلاً گرین ہاؤس فیس، وائلڈ لائف فیس اور سیکیورٹی فیس میں تین سے چار گنا اضافہ شامل ہے۔

فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے والدین کی تنظیم کے ایک رکن ساجد اقبال کا تعلق مردان سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان نجی سکولوں میں پہلے تو ایک بچے کے ساتھ دوسرے بچے کی تعلیم مفت تھی پھر دوسرے بچے کی آدھی فیس وصول کرنے لگے اور اب دونوں بچوں کی مکمل فیس وصول کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک طرف ریگولیٹری اتھارٹی نے سکولوں کے اکاونٹس منجمد کرنے کا کہا ہے لیکن سکولوں نے آج بچوں کو فیس سلپ تھما دی ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے تین تین مہینوں کی فیس جمع کرائی جائے۔

اس بارے میں نجی سکولوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ ثانوی سطح تک مفت تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت اپنی ذمہ داری نجی اداروں پر کیسے ڈال سکتی ہے۔

پشاور کے علاقے حیات آباد میں ایک نجی سکول کے مالک محمد طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ نجی سکولوں کے مختلف معیار ہیں، کچھ سکول تین سے پانچ ہزار ماہانہ فیس وصول کرتے ہیں تو کوئی پندرہ سے بیس ہزار فیس لیتے ہیں۔ ’اب والدین پر کسی نے بندوق نہیں تان رکھی کہ وہ مہنگے سکولوں میں بچوں کو پڑھائیں۔‘

محمد طاہر کا کہنا تھا کہ اگر سکول انتظامیہ غلط طریقے سے فیسوں میں اضافہ کرتے ہیں تو وہ بھی اس کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل داخل کریں گے اور سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے ۔

نجی سکولوں میں فیسوں میں اضافے کے حوالے سے کیس پشاور ہائی کورٹ میں ایک عرصے سے جاری تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.