74

خلائی مخلوق سے ڈرتے ہو!

آمنہ مفتی

ہماری بہت سی قومی برائیوں میں سے ایک ٹھٹھول بازی بھی ہے۔ ذرا کسی نے کوئی جملہ کہا نہیں اور ہم ٹھی ٹھی ٹھو ٹھو کرتے، لطیفے بازی پہ تل جاتے ہیں۔ دو ایک روز پہلے کاذکر ہے، میاں نواز شریف کہ خاصے بھلے آدمی ہیں، جانے کس جھونک میں کہہ بیٹھے کہ میرا مقابلہ، عمران خان اور زرداری سے نہیں بلکہ خلائی مخلوق سے ہے۔ صاحبان جملہ ایسا تھا کہ اگر ہم سیانے ہوتے تو کان دھرتے، اس کی گہرائی پہ غور کرتے اور کوئی نتیجہ نکالتے لیکن ادھر یہ حال ہے کہ لوگوں کا ‘ہاسا’ رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ زانوؤں پہ ہاتھ مار مار کے ہنسے جاتے ہیں اور جب ہنسی کے دوروں کے درمیان کہیں سانس برابر ہوتی ہے تو کہتے ہیں ، ’خلائی مخلوق‘ اور پھر سے ہاسا نکلنے کی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

آسمانی مخلوقات سے انسان کا واسطہ تو ہمیشہ سے تھا، لیکن یہ زیادہ تر اساطیری کہانیوں کے کردار تھے۔ لافانی حسن اور الوہی طاقتوں کے مالک، ماؤنٹ اولمپس اور سورگ کے باسی۔ کبھی کبھار زمین پہ اترتے تھے، انسانوں کو ایک جھلک دکھا کے دیوانہ بناتے تھے اور پھر اپنی پرواز میں سات طبق لپیٹتے، دوبارہ آسمانوں پہ۔

زمین زادے، کیڑے مکوڑوں کی طرح زمین سے لپٹے ان کے حسن اور طاقت سے مسحور، ان کے مجسمے بناتے تھے، پوجا کرتے تھے اور ان سے مدد مانگتے تھے۔

انسان آسمان کی طرف دیکھتا رہا، یہاں تک کہ وحی کے در بھی بند ہو گئے۔ اب اس نے اپنی دنیا میں دل لگا لیا۔ اپنے دوست، دشمن، سب یہیں ڈھونڈھ لیے۔ قرونِ وسطیٰ کے دور سے گزرتے ہوئے، احیائے علوم کے زمانے میں داخل ہوا، صنعتی ترقی اور پھر نو آبادیاتی دور تک اسے آسمان پہ کچھ نظر نہ آیا۔

سرد جنگ کے زمانے میں اچانک، امریکہ اور یورپ میں لوگوں کو آسمان پہ اڑن تشتریاں نظر آنے لگیں۔ یہ اڑن تشتریاں اس قدر لوگوں نے اور اس قدر بار دیکھیں کہ ان پہ باقاعدہ ادارے بنا کے تحقیق کی جانے لگی۔ یہ وہی دور تھا جب روس اورامریکہ خلائی دوڑ میں کبھی چاند اور کبھی مریخ پہ جانے کے ارادے باندھتے تھے، توڑ دیتے تھے۔

سالوں انسان منتظر رہا کہ، لمبوترے گنجے سر، لمبی لمبی ترچھی کالی آنکھوں، بے بانسے کی ناک اور پتلے پتلے ہاتھ پیروں والی خلائی مخلوق کسی دن کہیں اترے گی اور ہمارے ہوش ٹھکانے لگا دے گی۔ امریکہ اور یورپ والوں نے چالیس کی دہائی سے لے کر ستر کی دہائی تک اس پہ تحقیق کی اور آخر تسلیم کر لیا کہ یہ فقط فسانہ ہے۔ ہزاروں لوگوں کے اجتماعی لاشعور کی کارستانی۔

مزے کی بات یہ کہ روس میں یہ خلائی تشتریاں میری معلومات کے مطابق،ستر کے عشرے کے بعد نظر آ ئیں۔ اب ہوا یوں کہ خلائی مخلوق سے چھیڑ چھاڑ تو کی روس اور امریکہ نے لیکن وہاں کسی مائی کی لعل، ‘خلائی مخلوق‘ کی ہمت نہ ہوئی کہ اپنی اڑن تشتری اتارتا۔ اتریں یہ ساری تشتریاں ہمارے ہاں۔

یہ ذکر ہے اگر میں بھول نہیں رہی تو ستر اور اسی کے عشرے کا۔ ان اڑن تشتریوں سے لاکھوں کی تعداد میں مخلوقات اتریں اور کمی پڑی تو یہیں سے پکڑ دھکڑ کے کاسٹیوم چڑھا کے تعداد پوری کی گئی۔ سالوں یہ مخلوقات یہاں دندناتی پھریں کچھ تو ایسی ثابت ہوئیں کہ اچھے بھلے انسانوں کو اپنے جیسا کر لیا ۔ کسی کو نظر نہ آ ئیں، پھر اچانک ساری دنیا کو نظر کی ایک ایسی عینک لگی کہ سب کچھ نظر آ نے لگا اور سب یک زبان ہو گئے کہ یہ مخلوق ہم میں سے نہیں۔

نہ کوئی ملک، ان کو اپنانے کو تیار ہے اور نہ ہی مذہب۔ سوچ ساچ کے اس مخلوق کا ایک نام بھی رکھا گیا۔ بھلا سا نام ہے اس وقت ذہن سے نکل گیا، تو خیر اب ایسا ہے کہ چونکہ ہم ہر میدان میں باقی دنیا سے پیچھے ہیں، اس لیے اس مخلوق کو بھی پہچان نہیں پا رہے۔ میاں صاحب ماشاء اللہ، زیرک اور صاحبِ بصارت شخص ہیں، بھانپ چکے ہیں۔

ان کا خوف فطری ہے۔ ہم تو نہ ‘خلائی مخلوقات’ پہ یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی سکول لے جانے والے سینڈوچ کے علاوہ ہم نے ‘ یو ۔ ایف ۔ او ‘ ہی کبھی دیکھی ہے اس لیے ہنسنے میں مشغول ہیں۔

میاں صاحب کا ایسا ہے کہ یہ ان تشتریوں میں لفٹ لے چکے ہیں اور بہت قریب سے ‘خلائی مخلوق’ اور اس سے پیدا ہوئی ‘مخلوق’ کو دیکھ چکے ہیں۔ اس لیے ڈر رہے ہیں اور دہائیاں دے رہے ہیں۔ اس کے سواء کیا کہیں کہ خلائی مخلوق سے ڈرتے ہو؟ خلائی مخلوق تو تم بھی ہو!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.