24

خادم حسین رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کا مقدمہ

حکومت پاکستان کا کہنا ہے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف احتجاج کے دوران کروڑوں روپے کی مالیت کی سرکاری اور غیرسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

سنیچر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کے خلاف لاہور میں بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

چوہدری فواد حسین کے مطابق پیر افضل قادری کے خلاف بھی اسی نوعیت کا مقدمہ گجرات میں درج کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک لبیک نے جس طرز کی سیاست کا آغاز کیا وہ نہ صرف پاکستانی قانون کے خلاف تھی بلکہ آئین پاکستان کو بھی للکارا گیا۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے املاک کو نقصان پہنچانے، گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور خواتین و بچوں سمیت لوگوں سے بدتمیزی کرنے والے تحریک لبیک کے تمام کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو احتجاج میں موجود تھے لیکن کسی توڑپھوڑ میں ملوث نہیں تھے انھیں بھاری جرمانوں اور ضمانتوں کے بعد رہا کیا جائے گا۔

چوہدری فواد حسین کا کہنا تھا کہ تمام افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے گا اور انھیں قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر پولیس نے ایک بڑی کارروائی کی تھی اور اس کارروائی سے قبل حزب اختلاف کی تمام بڑی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے الزام سے بری کرنے کے فیصلے کے خلاف تحریک لبیک نے ملک بھر میں تین روز تک احتجاجی دھرنا دیا تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران 2899 افراد کو پنجاب سے، 139 افراد کو سندھ اور 126 افراد کو اسلام آباد سے حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کی قیادت نے لوگوں کو اشتعال دلایا اور ان رہنماؤں کیخلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔

چوہدری فواد حسین کا کہنا تھا کہ احتجاج تمام شہریوں کا قانونی اور آئینی حق ہے لیکن ریاست اپنی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آئین اور قانون کے اندر احتجاج سب کا حق ہے اور کچھ شرپسند عناصر نے احتجاج کے نام پر فساد پھیلایا ہے، ریاست کسی دباؤ‌ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کے اواخر میں تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت درجنوں افراد کو ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے انھیں 30 دن تک نظر بند کر دیا گیا تھا۔

رواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کی قیادت نے لوگوں کو اشتعال دلایا اور ان رہنماؤں کیخلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔
اس موقع پر چوہدری فواد حسین نے کہا تھا کہ’تحریک لبیک مسلسل عوام کی جان و مال کے لیے خطرہ بن گئی ہے اور مذہب کی آڑ لے کر سیاست کر رہی ہے۔ موجودہ کارروائی کا آسیہ بی بی کے مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے عوام پر امن رہیں اور حکام سے مکمل تعاون کریں۔‘

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گذشتہ ماہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے الزام سے بری کرنے کے فیصلے کے خلاف تحریک لبیک نے ملک بھر میں تین روز تک احتجاجی دھرنا دیا تھا۔

اس دھرنے کا اختتام، تحریک لبیک اور وفاقی و پنجاب حکومت کے درمیان ایک معاہدے کے بعد ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت حکومت نے آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے قانونی کارروائی کی ہامی بھری تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.