37

حکومت نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں فوری طور پرتعلیمی ایمرجنسی نافذکرے

حکومت نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں فوری طور پرتعلیمی ایمرجنسی نافذکرے اورطویل دہشتگردی کے دوران تباہ ہونیوالے تعلیمی اداروں کی تعمیروبحالی کیلئے اٹھائے ،گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بنوںمیں’’معاشرہ کی تعمیروترقی میں نوجوانوں کا کردار‘‘کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ قبائلی اضلاع کو ملک کے دیگرحصوں کے برابر لانے اور یہاں شرح خواندگی میں اضافہ کیلئے ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے فوری طورپربحال اور فعال بنائے جائیںتاکہ قبائلی عوام کااعتماد بڑھے اور انکو بھی حصول تعلیم کے یکساں مواقع میسرہوں،اسسٹنٹ کمشنر بنوںشوکت خان نے کہاکہ قبائلی عوام نے طویل عرصہ تک مشکلات برداشت کیں انکومختلف قسم کے چیلنجزکاسامناکرناپڑا،حکومت انکی مشکلات اور مسائل سے آگاہ ہے اور ہمیں قبائلی عوام کی مشکلات اور محرومیوں کا احساس ہے مگران مشکلات اور چیلنجزپرقابوپانے کیلئے ہم سب کو ملکر کام کرناہوگا،ہمیں موجودہ روایات،سماجی برائیوں اورسٹیٹس کوکیخلاف اٹھ کربغاوت کرناہوگی اوریہ اس وقت ممکن ہوسکتاہے جب ہمارے ہاتھ میں بندوق اور تلوار کے بجائے قلم ہو،تعلیم کی بدولت ہی ان برائیوں کاخاتمہ کیاجاسکتاہے کیونکہ تعلیم طاقت ہے اور ہم نئے تعلیمی ادارے قائم اور پرانے بحال کرکے ہی اپنی نئی نسل کوتعلیم کی طاقت کے ذریعے مضبوط بناسکتے ہیں ، اس مقصد کیلئے حکومت پرعزم ہے اور قبائلی اضلاع میں انقلابی اقدامات اٹھارہی ہے تاکہ ترجیحی بنیادوں پر قبائلی اضلاع میں تعلیم کوفروغ دیاجاسکے،انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع میںتعلیم کے فروغ کیلئے حکومت نے ایک خطیررقم مختص کی ہے جو قبائلی عوام کوتعلیم سے روشناس کرانے کیلئے حکومتی عزم کی عکاس ہے،پروفیسر ڈاکٹر طاہر محمود دانش نے کہا کہ اگرچہ قبائلی عوام نقل مکانی کے نتیجے میں بہت متاثرہوئے ہیں مگردیرآیددرست آید کے مصداق حکومتی فیصلہ قبائلی عوام کی بہتری کاہے،عسکریت پسندی نے قبائلی عوام کو زبردستی بلیک ہول سے نکال کراس قابل بنایاکہ دنیاکوالگ نظروں سے دیکھیں ،بڑی تعدادمیں نقل مکانی نے بڑے پیمانے پر آگاہی پیداکی جوقبائلی عوام کیلئے مفید ثابت ہوگی،ریزیڈنٹ ایڈیٹر اسلام آباد عالمزیب خان نے کہا کہ روایتی جنگوںکازمانہ اب گرزچکاہے اب ہمیںمیدان میں نہیں بلکہ میڈیاپرجنگ لڑناہوگی،قبائلی عوام کی محرومیاں ختم اوریہاں تعمیروترقی کودورکاآغاز کرنے کیلئے ایک بھرپورآگاہی مہم کی ضرورت ہے جس میںپرنٹ اور الیکٹرانک کیساتھ ساتھ سوشل میڈیاکابڑاکردارہے،پروفیسر محمد نے قبائلی اضلاع میں ادبی سرگرمیاںشروع کرنے اور ان میں تیزی لانے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہاکہ اس خطہ نے بیشمار ادبی شخصیات پیداکی ہیں حکومت کو چاہئے کہ اس زرخیزسرزمین سے بڑے لیڈرپیداکرنے میں بھی مددکرے کیونکہ قبائلی عوام انتہائی باصلاحیت ہیں اگرکمی ہے تو صرف توجہ کی،اگراس طرف توجہ دی جائے توکوئی شک نہیں کہ قبائلی اضلاع میں ملکی اورغیرملکی سطح کے لیڈرپیداہوسکتے ہیں،پروفیسر ڈاکٹر خالدعثمان نے کہا کہ بنوں پوسٹ گریجویٹ کالج صوبہ کی بڑی کالج ہے مگربد قسمتی سے طلبہ کی چھ ہزارسے زائد تعدادکے باوجود کالج ٹرانسپورٹ ،ہاسٹل، لائبریری،کمپیوٹرلیب جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہے،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ کالج کو فوری طورپربنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے،قبل ازیںسینئرصحافی ڈاکٹراشرف علی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ نوجوان ہماراقیمتی اثاثہ اور کل کے حکمران ہیں نوجوانوں کو اپنی ذمہ داری کااحساس کرتے ہوئے آگے آناچاہئے اور جنگ زدہ قبائلی اضلاع کی تعمیرنومیں اپناکرداراداکرنا چاہئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.