69

جہانگیر ترین کی درخواست مسترد، نااہلی برقرار

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کی حکمران جماعت تحریکِ انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کے فیصلے پر نظرِثانی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

نظرثانی کی درخواست مسترد ہونے کے بعد جہانگیر ترین اب عمر بھر پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ خیال رہے کہ نااہلی کے بعد جہانگیر ترین نے پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری کے عہدے سے تو استعفیٰ دے دیا تھا تاہم وہ حکمراں جماعت کے اہم اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد جہانگیر ترین کو مبینہ طور پر وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ایک کمرہ بھی الاٹ کیا گیا ہے تاہم پاکستان تحریک انصاف اس سے انکاری ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جمعرات کو درخواست کی سماعت کے موقع پر کہا کہ عدالت اس مقدمے کی دوبارہ سماعت نہیں کر رہی ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ نظر ثانی کی درخواست میں ایسے شواہد پیش نہیں کیے گئے جنھیں دیکھتے ہوئے عدالت یہ سمجھے کہ فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جہانگیر ترین کی نظرثانی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیسے لیڈر ہیں جو لوگوں سے اپنے پیسے چھپانے کے لیے بچوں کو آگے کر دیتے ہیں۔

جہانگیر ترین نے اپنے خلاف فیصلہ آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جسے پارٹی سربراہ عمران خان نے مسترد کر دیا تھا۔

استعفیٰ مسترد ہونے کے بعد اپنے بیان میں جہانگیر ترین نے کہا تھا کہ وہ عمران خان کو وزیراعظم بنوانے کی جدوجہد کرتے رہیں گے۔

وہ اپنے اس عزم پر انتخابات کی تیاری اور پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کے دوران ہی نہیں حکومت سازی کے عمل کے دوران بھی سختی سے کاربند رہے۔ انتخابات سے پہلے امیدواروں کا چناؤ ہو یا ’الیٹکٹیبلز‘ کو پارٹی میں شامل کروانا، جہانگیر ترین اس عمل میں مرکزی حیثیت میں فرائض انجام دیتے رہے۔

جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماؤں کو توڑ کر اپنی پارٹی میں لانے کا سہرا بھی جہانگیر ترین کے سر جاتا ہے۔ انھی کی کوششوں سے تین درجن سے زائد مسلم لیگی امیدواران نے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنایا اور پھر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔

انتخابات کے بعد جب پی ٹی آئی کو مطلوبہ اکثریت نہ مل سکی تو یہ جہانگیر ترین ہی تھے جو تن تنہا اپنا جہاز لے کر نکلے اور آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے ارکان کو اپنے پرائیوٹ جیٹ میں لاد کر بنی گالہ لے کر آئے۔

اور جب پارلیمنٹ میں مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی اور عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا تو اگلے روز ہی جہانگیر ترین نے اعلان کیا کہ ان کا وعدہ پورا ہوا اور وہ اپنے کاروبار اور خاندان پر توجہ دینے کے لیے لندن جا رہے ہیں۔

مبصرین البتہ یہ سمجھتے ہیں کہ جہانگیر ترین لندن جا کر بھی نہیں گئے۔ مرکز اور خاص طور پر کس رکن کو کون سی وزارت ملنی چاہیے، اس میں جہانگیر ترین نے نہ ہوتے ہوئے بھی مبینہ طور پر اہم کردار ادا کیا۔

جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے ہی دسمبر 2017 میں اپنے فیصلے میں جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا تھا۔ یہ وہی شق ہے جس کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف بھی نااہل ہوئے تھے۔

چیف جسٹس نے جہانگیر خان ترین کے وکیل بشیر مہمند کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل اور ان کی اہلیہ نے لندن میں قائم کیے گئے ٹرسٹ میں نہ صرف پیسہ لگایا بلکہ اسی ٹرسٹ نے جو برطانیہ میں ہائیڈ ہاوس خریدا تھا اس کی تزائین و آرائش کے لیے نہ صرف رقم خرچ کی بلکہ بینک سے ادھار بھی لیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لندن میں خریدے گئے گھر کی تزئین و آرائش کے لیے کوئی فرشتے وہاں پر نہیں گئے تھے بلکہ جہانگیر ترین نے ہی یہ کام سرانجام دیا تھا۔

جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے جو پیسہ بیرون ملک بھجوایا اس پر ٹیکس بھی ادا کیا اس لیے ان کی یہ رقم قانونی طور پر بیرون ملک بھجوائی گئی۔

بینچ کے سربراہ نے وزیر اعظم عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرون ممالک سے پیسہ وطن واپس لانے کی بات کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس ان کی اپنی جماعت کے رہنما پاکستان سے پیسہ بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔

سماعت کے دوران ایک موقع پر جہانگیر خان ترین کے وکیل نے اونچی آواز اور سخت لہجے میں دلائل دینا شروع کیے تو چیف جسٹس نے اُنھیں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھیمی آواز میں بات کریں۔

نامہ نگار کے مطابق عدالت کی طرف سے جب سخت ریمارکس آ رہے تھے تو کمرۂ عدالت میں موجود جہانگیر ترین کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہو رہے تھے۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی نااہلی سے متعلق مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی کی طرف سے دائر کی گئی نظرثانی کی درخواست میں فل کورٹ بینچ بنانے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔

جہانگیر ترین کی نااہلی کی درخواست بھی محمد حنیف عباسی کی طرف سے ہی دائر کی گئی تھی جو خود اس وقت پابندِ سلاسل ہیں۔

اس درخواست میں تین الزامات لگائے گئے تھے جن میں سے عدالت نے ایک کو درست قرار دیتے ہوئے جہانگیر خان ترین کو نااہل قرار دیا۔ جہانگیر ترین کی نااہلی کی وجہ لندن میں ان کی جائیداد بنی تھی جس کے بارے میں عدالتی فیصلے کے مطابق انھوں نے غلط بیانی کی۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ جہانگیر ترین کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اس ٹرسٹ کے بینیفیشل اونر نہیں جبکہ حقائق اس کے برعکس ثابت ہوئے اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.