27

جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک دنیا کو دھمکا رہے ہیں: اردوغان

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے جوہری ہتھیار کے حامل ممالک پر الزام لگایا ہے کہ وہ دنیا کو دھمکا رہے ہیں جبکہ ساتھ ہی انھوں نے امریکہ کو ایران جوہری معاہدے سے نکلنے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

رجب طیب اردوغان نے کہا کہ ‘جن ممالک کے پاس 15 ہزار سے زائد جوہری ہتھیار ہیں وہ اس وقت دنیا کو دھمکا رہے ہیں۔’ ان کا اشارہ دنیا بھر کے مجموعی جوہری ہتھیاروں کی جانب تھا جس میں سے زیادہ تر امریکہ اور روس کے پاس ہیں۔

بظاہر ایران جیسے ممالک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘جوہری ہتھیار سے لیس ممالک انھیں کیوں دھمکا رہے ہیں۔’

انھوں نے افطار کے ساتھ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ‘اگر ہم انصاف کی بات کریں اور منصفانہ رویہ اختیار کریں تو جوہری ہتھیار سے لیس ممالک کا یہ کہنا کہ جوہری پاور سٹیشن خطرہ ہیں تو ان کا بین الاقوامی برادری کے سامنے کوئی اعتبار نہیں رہ جاتا۔’

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر اردوغان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کو تمام طرح کے جوہری ہتھیار سے پاک کرنا ہوگا۔ بظاہر ان کا اشارہ اسرائیل کی جانب تھا کیونکہ اس علاقے میں یہی وہ واحد ملک ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

خیال رہے کہ دس دن قبل امریکی صدر نے ایران کے ساتھ چھ ممالک کے جوہری معاہدے سے خود کو علیحدہ کر لیا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد ایران کی جوہری سرگرمیوں پر لگام لگانے کے عوض اس پر عائد پابندیاں ختم کرنا تھا۔

لیکن امریکہ ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنا چاہتا ہے۔ پیر کو امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ایران سے کہا کہ وہ شام کی خانہ جنگی سے اپنے آپ کو علیحدہ کر لے۔

ایران نے واشنگٹن کی دھمکی کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ایران میں ‘حکومت تبدیل کرنا چاہتا ہے۔’

خیال رہے کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کا علیحدہ ہونا ترکی کے نیٹو کے رکن کے طور امریکہ سے روابط میں مزید تلخی کا باعث بنا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کی ‘شام پالیسی’ اور امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر ترکی میں ناراضی پائی جاتی ہے۔

صدر اردوغان نے کہا ‘جہاں تک ترکی کا سوال ہے ہم ایران کے جوہری معاہدے جسے سلا دیا گیا ہے سمیت دوسرے مسائل کو پھر سے بھڑکانا نہیں چاہتے۔ امریکی انتظامیہ کے فیصلے کے باوجود مثبت بات یہ ہے کہ معاہدے کے دوسرے دستخط کنندگان اس معاہدے کا پاس رکھ رہے ہیں۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.