18

جن پر قتل کا الزام ہے وہ جلسے کرتے پھر رہے ہیں: چیف جسٹس

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بلوچستان میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے بلوچستان پولیس کے سربراہ سے اس بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

عدالت نے پولیس کے سربراہ سے رپورٹ طلب کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اداروں کو بھی ان واقعات سے متعلق اپنی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے یہ نوٹس تربت میں پنجابی مزدروں کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران لیا۔

اُنھوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستانی نہیں ہیں؟

نامہ نگار کے مطابق اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ کچھ عرصے سے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی وجہ سے اس صوبے کے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں جس سے ریاست کے تشخص کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے نہ تو بچے سکول جا سکتے ہیں اور نہ ہی مریض ہسپتال جانے کے لیے تیار ہیں۔

میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’جن افراد پر قتل کا الزام ہے وہ اس وقت بلوچستان میں جلسے کرتے پھر رہے ہیں‘ تاہم چیف جسٹس نے ان افراد کے نام نہیں لیے۔

اُنھوں نے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ 11 مئی تک اس بارے میں اپنی رپورٹ پیش کریں اور اس از خود نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری برانچ میں ہو گی۔

اس سے قبل خفیہ ادارے یہ رپورٹس دیتے رہے ہیں کہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے کارکن ملوث ہیں۔

خیال رہے کہ منگل کی شب کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی حقوقِ انسانی کی کارکن جلیلہ حیدر نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے بعد ان کی جانب سے ‘تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی’ پر اپنی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف قبیلے کے افراد نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

اس سلسلے میں نہ صرف شہر صرف مختلف علاقوں میں احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا بلکہ پریس کلب کے باہر دو علیحدہ علیحدہ کیمپوں میں تادم مرگ بھوک ہڑتال بھی شروع کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں