176

جنیدالرشید ایک ہنس موک اور برد بار نوجوان لیڈر ہے

دی بنوں: بنوں میں سیاست شائد اتنی شدت پہلے نہیں رکھتی تھی جتنی تحریک انصاف کی وجہ سے اختیار کی ۔ تقریباً ہر شخص اب سیاست سے کسی نہ کسی طرح جڑا ہوا ہے اور اکثریت جوانوں کی ہے ۔ ضلع بنوں کی سیاست میں نیا ایک چمکتا ہوا تارہ #جنیدالرشید کا تعلق تخصیل ککی کے علاقہ ککی خاص کے ایک درمیانی درجے کے گھرانے سے ہے،جنیدالرشید نے سیاست کا آغاز دورہ طالب علمی میں انصاف سٹونٹ فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے کیا اور ضلع بنوں میں انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھنے والوں میں ان کا نام سر فہرست ہے.کالج سے فراغت کے بعد یونیورسٹی اف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں میں داخلہ لیا اس دوران بھی وہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ رہے اور انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن میں مختلف عہدوں پر کام کرتے رہے .یونیورسٹی سے فراغت کے بعد انصاف یوتھ ارگنائزیشن جائن کیا.اسطرح وہ انصاف یوتھ ارگنائزیشن ضلع بنوں کے ضلعی صدر بن گئے.اس کے بعد مادر پارٹی پی ٹی ائی انٹرا پارٹی الیکشن میں سینئر نائب صدر منتخب ہوئے .اب اِس وقت وہ پی ٹی ائی تخصیل بنوں کے صدر ہےاور بلدیاتی الیکشن میں یونین کونسل ککی۱ سے بہت بڑے مارجن کے ساتھ ڈسٹرکٹ ممبر منتخب ہوئے ہے. علاوہ ازیں جنیدالرشید کے کوششوں سے ککی ، بھرت اور گرد و نواح کوٹکہ جات سے بھی پی ٹی آئی کے کنڈیڈیٹ نے بھاری اکثریت سے لوکل باڈی الیکشن جیتے ہیں۔

#جنیدالرشید ایک ہنس موک اور برد بار نوجوان لیڈر ہے, پی ٹی ائی ورکرز کے ساتھ ساتھ مخالف پارٹیوں اور غیر جانبدار لوگ بھی ان کو اچھے اخلاق کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی قیادت کے ساتھ بہترین تعلقات رکھنےکی بناء پر پارٹی میں کافی اثرو رسوخ رکھتا ہےاور یہی وجہ ہے کہ 2018 کے جنرل الیکشن میں پی کے 88 سے پارٹی کا مضبوط امیدوار جانا جاتا ہے۔

# پی ٹی ائی کی طرف سے ٹکٹ ملے یا نہ ملے لیکن اس بندے کی جدوجہد صرف اور صرف عوام کی #عزت نفس کی بحالی ہے ۔یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ ٹکٹ کس کو ملتا ہے لیکن بظاہر پی ٹی آئی میں اس سے زیادہ موذوں امیدوار کوئی اور نہیں دیکھتا۔

#طوفان سے جب ٹکرا گئے پھر آر کیا اور پار کیا؟
جب چل پڑے تو چل پڑے پھر تیر کیا تلوار کیا؟

#جنیدالرشید وہی امیدوار ہے جس کی وجہ سے درانی جماعت نے میں یہاں جمیعت کا ذکر نہیں کرونگا کیونکہ جمیعت علماء اسلام اپنا وجود کھو چکی ہے۔ درانی جماعت نے اپنا امیدوار دستبردار کرلیا تھا اور مخالف امیدوار کی بھرپور حمایت بھی کی لیکن ایک وفاقی وزیر اور ایم پی اے جسکو # کبڈی ایم پی اے کہنا چاہیئے کی موجودگی مخالف امیدوار کو ایک عبرتناک شکست بھی دی ۔
اسی جنید کی وجہ سے درانی اب اس علاقے کے ہر جلسے میں تقریباً روتے ہوئے کہتا ہے کہ تحریک انصاف کے فنڈ سے لگے پانی کے پمپ سے پانی کا استعمال حرام ہےاور ایک مرتبہ پھر فتوی سیاست کا آغاز کیا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.